Al-Risala · October 2001 · page 44

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴

وہ رکشہ کے ذریعہ نہ صرف مسافروں کو ادھر سے ادھر پہنچاتے ہیں بلکہ ان کا ’’رکشہ‘‘ الرسالہ مشن کی اشاعت کا چلتا پھرتا ذریعہ بن گیا ہے۔ وہ لوگوں کے پاس جا کر الرسالہ پہنچاتے رہتے ہیں۔ میرٹھ کے بعض نوجوان جو گہرے طور پر الرسالہ سے متاثر ہیں ان کو سب سے پہلے الرسالہ ابرار صدیقی صاحب کے ذریعہ ہی ملا۔

میرٹھ میں کچھ نوجوان الرسالہ مشن سے اتنا زیادہ متاثر ہیں کہ انہوں نے اس کو اپنا مقصد حیات بنالیا ہے۔ مثال کے طور پر محمد شہزاد علی خاں صاحب، محمد ساجد خاں صاحب، اور ماسٹر محمد نفیس صاحب، محمد راشد صاحب انصاری، ڈاکٹر ذوالفقار صاحب سیفی‘ وغیرہ۔ ان لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ ہفتہ میں چھ دن وہ اپنا کام کرتے ہیں اور ایک دن چھٹی کر کے الرسالہ کی اشاعت کرتے ہیں۔ وہ سائیکل اور اسکوٹر پر الرسالہ اور کتابیں لے کر نکلتے ہیں اور مختلف لوگوں کے یہاں جا کر ان سے ملتے ہیں۔ ان سے باتیں کرتے ہیں اور انہیں الرسالہ یا کتاب پڑھنے کے لئے دیتے ہیں۔ اس طرح یہ صاحبان اس اصول کا عملی نمونہ بن گئے ہیں جس کو الرسالہ میں ’’ون مین ٹو مشن‘‘ کے الفاظ میں بتایا گیا تھا۔ ان صاحبان کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ کسی سے ملتے ہیں تو الرسالہ کے مختلف شمارے اس کے سامنے اس طرح رکھ دیتے ہیں کہ وہ صفحہ اول پر چھپے ہوئے اقوال کو پڑھ سکے۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ان اقوال سے متاثر ہوتے ہیں اور فوراً الرسالہ پڑھنے کے لئے لے لیتے ہیں۔ یہ طریقہ وہ اردو اور انگریزی دونوں رسالوں کے لئے اختیار کئے ہیں۔

میرٹھ کے مختلف مقامات کے پروگراموں میں شرکت کے بعد شام کو منڈولی کے لئے روانگی ہوئی۔ جب میں گاڑی میں بیٹھ چکا تو بہت سے لوگ مصافحہ کرنے کے لئے آئے۔ میں نے دیکھا کہ مجھے رخصت کرتے ہوئے بعض نوجوانوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب، ہمارے لیے دعا کیجئے۔ میں نے ان

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page