Al-Risala · October 2001 · page 45

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۵

کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں آپ کو قبول فرمائے۔ ایک اور نوجوان نے رخصت ہوتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب آپ آخرت میں گواہ رہیے گا کہ ہم نے اپنی زندگی کو دعوت الی اللہ میں لگایا۔ میں نے کہا کہ یہ میری گواہی کا معاملہ نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں کوئی چار انگشت جگہ ایسی نہیں، جہاں اللہ کا فرشتہ موجود نہ ہو۔ یہ فرشتے میرے جیسے انسان سے پہلے آپ کے عمل کا اندراج اپنے دفتر میں کر چکے ہوتے ہیں۔ آخرت کے دن یقیناً وہ آپ کے حق میں اپنی گواہی دیں گے۔ میرٹھ کے اس سفر میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے چند نوجوان بے حد مخلص اور دعوت کا سچا جذبہ رکھنے والے نظر آئے۔ ان کے نام یہ ہیں: محمد شہزاد علی خاں، محمد ساجد خاں، ماسٹر محمد نفیس انصاری، ڈاکٹر ذوالفقار، محمد راشد، وغیرہ۔ میرٹھ جیسے شہر میں ایسے سنجیدہ اور داعیانہ جذبہ رکھنے والے نوجوان مجھے تعجب خیز حد تک قابل قدر نظر آئے ۔ اللہ تعالیٰ ان نوجوانوں کے نیک جذبات کو قبول فرمائے۔ میرٹھ کے پروگرام سے فارغ ہو کر مغرب کی نماز کے بعد وہاں سے واپسی ہوئی۔ پہلے ہم لوگ منڈولی پہنچے جو دہلی کے اطراف میں ایک گاؤں ہے۔ یہاں مولانا محمد راشد خاں قاسمی صاحب کے مدرسہ تحفیظ القرآن میں کچھ دیر قیام رہا۔ یہاں کے مہتمم مولانا محمد اطہر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ میری تحریروں کو الجمعیۃ کے زمانہ سے پڑھتے چلے آ رہے ہیں، انہی کی گاڑی میں یہ پورا سفر ہوا۔ عشاء کی نماز اسی مدرسہ میں پڑھی گئی۔ یہاں مختلف لوگوں سے ملاقات اور گفتگو ہوئی۔ منڈولی سے واپس ہو کر ۱۰ ستمبر ۲۰۰۰ کی رات کو ہم لوگ دہلی پہنچے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page