میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۶
ایک خط
برادر محترم مولانا عبدالرؤف صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲۳ جون ۲۰۰۱ء کو دہلی میں آپ لوگوں سے ملاقات میرے لئے کافی مفید ثابت ہوئی ۔ اس کے بعد میں برابر ایک سوال پر غور کرتا رہا۔ وہ یہ کہ دین اگر ایک ہے تو اس میں اتنے زیادہ اختلافات کیوں ۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، ہمیشہ اسلام کی مختلف تعبیریں اور تفسیریں کی جاتی رہی ہیں ۔ ایسی حالت میں ایک عام آدمی یہ سوچ سکتا ہے کہ جس طرح دین ایک ہے اسی طرح اس کی تشریح بھی ایک ہوتی تو عام انسان ذہنی انتشار میں مبتلا ہوئے بغیر اس واحد دین کو اختیار کر لیتا اور اس پر عمل کرتے ہوئے مر جاتا۔
اس پر غور کرنے کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ رایوں کا اختلاف کوئی برائی نہیں ، بلکہ وہ ایک نعمت ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے: اختلاف امتی رحمۃ ۔ یعنی میری امت میں رائے کا فرق واختلاف ایک رحمت ہے۔
دوسری بات یہ کہ اگر رایوں کا اختلاف کوئی غیر محمود چیز ہوتی تو وہ قرون مشہود لہا بالخیر میں نہ پائی جاتی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ دور رسالت، دور صحابہ، دور تابعین، دور تبع تابعین، غرض پورے دور اول میں کثرت سے علماء امت کے درمیان رایوں کا اختلاف پایا جاتا رہا ہے۔ ان اختلافات کی تفصیل آپ راقم الحروف کی کتاب دین انسانیت کے باب حریت فکر (صفحہ ۶-۵۴) میں دیکھ سکتے ہیں۔
اس معاملہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ تخلیق آدم کے وقت فرشتوں نے خود اللہ تعالیٰ سے اختلافی نوعیت کا ایک سوال کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے کسی ناراضگی کے بغیر اس کا جواب دیا۔ یہ سوال و جواب بائبل کی کتاب پیدائش میں شاید بے ادبی سمجھ کر حذف کر دیا گیا تھا۔ مگر قرآن میں اس کو باقاعدہ طور پر درج کیا گیا۔ ملاحظہ ہو البقرہ (۳۰-۳۲) گویا اللہ تعالیٰ نے خود اپنی مثال سے یہ روایت قائم فرمائی کہ لوگوں کو حق ہے کہ وہ اختلاف کریں اور جب کوئی شخص اختلاف
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues