Al-Risala · October 2001 · page 47

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۷

رائے کا اظہار کرے تو اس کو برا مانے بغیر دلیل کی زبان میں اس کی وضاحت کی جائے۔ اظہار اختلاف کو یہ درجہ دینا کوئی سادہ بات نہیں، یہ بے حد اہم بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی اختلاف کے اوپر ساری ذہنی ترقیوں کا انحصار ہے۔ جہاں اختلاف اور تنقید کا ماحول نہ ہو وہاں ذہنی ترقی کا عمل رک جائے گا۔ اس معاملہ میں ہمارے لیے جو انتخاب (choice) ہے وہ تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے، بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ یعنی جہاں تنقید کا ماحول نہ ہو وہاں جو چیز پائی جائے گی وہ ذہنی جمود ہو گا نہ کہ سادہ طور پر محض بے تنقید حالت۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید اور اختلاف کا معاملہ اللہ کی اس سنت سے جڑا ہوا ہے جس کو فطرت کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس فطرت کے تحت انسان کو پیدا کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے انسان کو ایک عظیم نعمت دی جس کو دماغ (brain) کہا جاتا ہے۔ یہ دماغ لا محدود فکری استعداد کا حامل ہے۔ مگر اس دماغ کا بڑا حصہ خوابیدہ حالت میں رہتا ہے۔ اس کو جگانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ فکری چیلنج ہے۔ جب انسان کے دماغ میں افکار کا ٹکراؤ پیش آتا ہے تو اس وقت اس کی سوئی ہوئی فکری صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ آدمی اپنے ان دماغی امکانات کو استعمال کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جن کو وہ ابھی تک استعمال نہ کر سکا تھا۔ بچوں کی تعلیم کا ایک طریقہ وہ ہے جس کو اکتشافی طریقہ (discovery method) کہا جاتا ہے۔ مثلاً اونٹ کے جسم کے مختلف اعضاء کو لکڑی کے الگ الگ ٹکڑوں میں تراشنا، اور پھر ان مختلف اور بے ترتیب ٹکڑوں کو بچہ کو دے کر یہ کہنا کہ ان کو جوڑ کر اونٹ بناؤ۔ بچہ جب اس طرح مختلف ٹکڑوں کے ذریعہ خود ایک اونٹ بناتا ہے تو وہ عام طریقہ سے زیادہ اس کو ذہن نشین کر لیتا ہے۔

یہی معاملہ حق کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں حق کو دو اور دو مل کر چار جیسے حسابی فارمولے کی صورت میں نہیں رکھا، بلکہ اس میں فرق و اختلاف کی گنجائش رکھ دی، حتیٰ کہ قرآن کے مطابق ، اس پر التباس (لأنعام (۹) کا پردہ ڈال دیا۔ یعنی ہر چیز میں ایک شبہ کا عصر (element of doubt) رکھ دیا۔ یہ اللہ کا تخلیقی نقشہ ہے، اور وہ اس لیے ہے تاکہ ہر انسان اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page