تاریخ کا مطالعہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۸
محدودیتیں (limitations) اس کے راستہ میں حائل ہیں۔ اس طرح انسان اس دنیا میں ایک ایسی مخلوق بن جاتا ہے جو سوچنے کے اعتبار سے لامحدود طور پر آزاد ہے مگر اپنی سوچ کو عملی واقعہ بنانے کے اعتبار سے وہ اتناہی زیادہ محدود ہے۔
یہ حقیقت بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی صرف اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس طرح کرے کہ اس میں اس کی محدودیتوں کی رعایت شامل ہو۔ جس منصوبہ بندی میں انسانی محدودیت کی کامل رعایت نہ کی گئی ہو اس کا اس عالم اسباب میں ناکام ہونا اتنا زیادہ یقینی ہے کہ اس سے زیادہ یقینی اور کوئی بات نہیں۔
اس حقیقت کی روشنی میں دیکھا جائے تو مذکورہ تاریخی ظاہرہ((historical (historical phenomenon) کی تشریح کرنا بخوبی طور پر ممکن ہو جاتا ہے۔ وہ تشریح یہ ہے کہ انسان یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی خواہش اور ارادے کے تحت ایک سمت میں اقدام کرتا ہے۔ اپنی ذاتی خواہش کے اعتبار سے وہ اس اقدام میں آخری انتہاء تک پہنچ جانا چاہتا ہے۔ مگر ابھی اس کا سفر پورا نہیں ہوتا کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایسی محدودیتوں کا شکار ہو گیا ہے جو فیصلہ کن طور پر اس کے راستوں میں حائل ہیں۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں اس کے اندر رد عمل (reaction) کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اس رد عمل کے زیر اثر وہ لوٹتا ہے اور دوسری انتہا کی طرف بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔ مگر دوبارہ یہی ہوتا ہے کہ اس کا سفر مکمل نہیں ہوتا کہ درمیان ہی میں وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا سفر فیصلہ کن محدودیتوں کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے بعد پھر وہ یہی کرتا ہے کہ دوسری انتہا کی طرف دوڑنا شروع کر دیتا ہے، صرف اس لئے کہ وہ دوبارہ پہلے ہی کی طرح نا قابل عبور محدودیتوں کا شکار ہو اور پھر وہاں سے لوٹ کر الٹی سمت میں دوبارہ ایک ایسے سفر کا آغاز کر دے جس کی ناکامی پیشگی طور پر معلوم اور مقدر ہو۔
انسان کی یہی دوطرفہ حیثیت ہے جس کا نتیجہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ انسان کی تاریخ گھڑی کے پنڈولم کی مانند بار بار ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف جا رہی ہے۔ ہزاروں سال تک سفر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues