میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۸
قوتِ فکریہ کو استعمال کرکے سچائی کو دریافت کرے۔ سچائی ہر آدمی کے لیے ایک ذاتی معرفت (finding) نہ کہ محض نسلی یا رسمی عقیدہ۔
آپ جانتے ہیں کہ قرآن میں تفکر اور تدبر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اگر دین کا معاملہ ”دو اور دو چار “ جیسا ایک سادہ معاملہ ہو تو تفکر اور تدبر کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ دین کے ساتھ غور و فکر جڑا ہوا ہے اور غور و فکر کا عمل اختلاف اور تنقید کے بغیر نتیجہ خیز طور پر ممکن ہی نہیں۔
میں قرآن و حدیث پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی جنت میں بسانے کے لیے نہایت اعلیٰ قسم کے انسان درکار ہیں۔ یہ وہ انسان ہیں جنہوں نے اللہ کو ایک شعوری حقیقت کے طور پر دریافت کیا۔ جنہوں نے غیب میں اللہ کا مشاہدہ کیا۔ جنہوں نے فطرت کے حسن میں جنت کی جھلکیاں دیکھیں۔ جن کو اس دنیا میں ایسے روحانی تجربے ہوئے جو ان کے سینے میں اللہ کی یاد کے چشمے جاری کردیں۔ مومن وہ ہے جس پر اسی دنیا میں مشاہدہ حق کی وہ حالت گزر جائے جو غیر مومن پر آخرت میں براہِ راست مشاہدہ کے بعد گزرے گی۔ یہ گویا پیدائشی انسان کے اندر ایک نئے انسان کا بننا ہے۔ یہ ایک قسم کا روحانی تحول و تغیر (spritual transformation) ہے۔ اور یہ روحانی تحول یا روحانی تغیر ہمیشہ تفکیر ی عمل (thinking process) کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ خوش عقیدگی یا پر اسرار برکت کے ذریعہ۔ الترمذی کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: (ألا إن سلعة الله غالية، ألا إن سلعة الله الجنة (مشکوة المصابیح ۱۳۶۹/۳) یعنی سن لو کہ اللہ کا سودا بہت مہنگا ہے اور اللہ کا سودا جنت ہے۔ یہ بات قرآن اور حدیث میں مختلف انداز سے بار بار آئی ہے۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ جنت ایک بے حد قیمتی سودا (commodity) ہے۔ اور وہ اس کی مہنگی قیمت دے کر ہی کسی کو ملے گی۔ جنت کسی کو اس طرح نہیں مل سکتی کہ کسی شیخ کی زیارت کرلی جائے یا صاحب برکت سے برکت حاصل کرلی جائے یا کوئی پر اسرار کلمہ اپنی زبان سے دہرا لیا جائے یا کسی بزرگ کی نسبت اور وسیلہ حاصل کر لیا جائے۔ جنت کی قیمت خوش عقیدگی نہیں ہے بلکہ جنت کی قیمت
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues