میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۹
زندہ شعور ہے۔ جنت کا تعلق پُر اسرار فضائل سے نہیں ہے بلکہ ایک معلوم روحانی اور شعوری انقلاب سے ہے۔ جنت کا ٹکٹ کسی کو اس کی حقیقی قیمت کی ادائیگی پر ملے گا۔ قرآن کے الفاظ میں، امانی کی بنیاد پر کسی کو جنت ملنے والی نہیں۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان طرح طرح کی خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ صحیح تلفظ کے ساتھ کلمہ پڑھ لو تو جنت ہے، کسی بزرگ سے بیعت کر لو تو جنت ہے، صلاۃ التسبیح پڑھ لو تو جنت ہے، قرآن کا حافظ کر لو تو جنت ہے، چلہ میں چلے جاؤ تو جنت ہے، اکابر کی دعائیں لے لو تو جنت ہے، کسی برکت والے کا دیدار کر لو تو جنت ہے، نعت خوانی اور میلاد خوانی کر لو تو جنت ہے، کسی مسلم خاندان میں پیدا ہو جاؤ تو جنت ہے، وغیرہ۔ یہ تمام باتیں وہی ہیں جن کو قرآن میں امانی (النساء ۱۲۳) کہا گیا ہے۔ یعنی آرزوئیں اور خوش خیالیاں (wishes)۔ اس آیت کی تفسیر میں مولانا محمود حسن صاحب نے جو نوٹ لکھا ہے وہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
”کتاب والوں یعنی یہودیوں اور نصرانیوں کا خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں۔ جن گناہوں پر خلقت پکڑی جائے گی ہم نہ پکڑے جائیں گے۔ ہمارے پیغمبر حمایت کرکے ہم کو بچا لیں گے۔ اور نادان اہل اسلام بھی اپنے حق میں یہی خیال کر لیا کرتے ہیں۔ سو فرما دیا کہ نجات اور ثواب کسی کی امید اور خیال پر موقوف اور منحصر نہیں۔ جو برا کرے گا پکڑا جائے گا۔ کوئی ہو اللہ کے عذاب کے وقت کسی کی حمایت کام نہیں آسکتی۔ اللہ جس کو پکڑے وہی چھوڑے تو چھوٹے ۔ اور جو کوئی عمل نیک کرے گا بشر طیکہ ایمان بھی رکھتا ہو سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور اپنی نیکیوں کا پورا ثواب پائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ثواب و عقاب کا تعلق اعمال سے ہے۔ کسی کی امید اور آرزو سے کچھ نہیں ہوتا۔ سو ان امیدوں پر لات مارو اور نیک کاموں میں ہمت کرو۔ “ (صفحہ ۱۲۶)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues