Al-Risala · February 2001 · page 11

شریعت اور دین کا فرق

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۱

شریعت اور دین کا فرق

قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے : لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا ولو شاء الله لَجَعَلَكُمْ امة واحدة ولكن ليبلوكم فى ما اتاكم فاستبقوا الخيرات الى الله مرجعكم جميعاً فينبئكم بما كنتم فيه تختلفون (المائدہ ۴۸) یعنی ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا، اور اگر خدا چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ مگر اللہ نے چاہا کہ وہ اپنے دئے ہوئے حکموں میں تمہاری آزمائش کرے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف دوڑو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ تم کو آگاہ کر دے گا اس چیز سے جس میں تم اختلاف کر رہے تھے۔

قرآن میں ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا الدین ایک ہے اور وہ ہر پیغمبر کے پاس اسی ایک صورت میں بھیجا گیا (الشورٰی ۱۳)۔ دوسری طرف قرآن کی مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اور منہاج کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے فرق رکھا ہے۔ مختلف پیغمبروں کو مختلف شریعت اور مختلف منہاج دیا گیا۔ قرآن کی یہ آیت مطلق مفہوم میں نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر نبی کی شریعت ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فرق یا اختلاف صرف جزئی اور فروعی پہلو سے تھا نہ کہ کلی اور عمومی پہلو سے۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں شرعة اور منہاج کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ شرعة یا شریعت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو آدابِ عبادت کہا جا سکتا ہے اور منہاج سے مراد طریقہ کار (method) ہے۔

اصل یہ ہے کہ عبادت کی ایک روح یا ایک حقیقت ہے۔ مثلاً قرآن کے مطابق نماز کی حقیقت خشوع ہے اور روزہ کی حقیقت شکر ہے، عبادت کی یہ داخلی حقیقت کبھی نہیں بدلتی۔ البتہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page