Al-Risala · February 2001 · page 12

شریعت اور دین کا فرق

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۲

اسی کے ساتھ ہر عبادت کی ایک ظاہری صورت (form) ہے۔ دراصل عبادت کا یہی ظاہری فارم ہے جس میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ وہ کسی پیغمبر کو ایک صورت میں دیا گیا اور دوسرے پیغمبر کو کسی اور صورت میں۔

آدابِ عبادت یا ظواہر عبادت میں فرق کی ایک مثال وہ ہے جو قبلہ سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے امت یہود کے لئے بیت المقدس (یروشلم) کو ان کا قبلہ عبادت بنایا گیا تھا۔ لیکن امت محمدی کا قبلہ عبادت کعبہ کو مقرر کیا گیا جو مکہ میں واقع ہے۔ منہاج سے مراد طریق کار ہے۔ مختلف پیغمبروں کو مختلف منہاج (طریق کار) دیا گیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہر پیغمبر کے حالات الگ تھے۔ اور طریقہ کار وہی درست ہو سکتا ہے جس میں وقت کے حالات کی رعایت کی گئی ہو۔ منہاج میں فرق کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام قدیم مصر میں آئے۔ انہوں نے اپنے ہم عصر بادشاہ سے براہ راست طور پر کہا کہ اجعلني على خزائن الارض (یوسف (۵۵) یعنی مجھ کو ملک کے خزائن پر مقرر کر دو۔ لیکن اسی ملک مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے، مگر انہوں نے اپنے ہم عصر بادشاہ سے اس قسم کا مطالبہ نہیں فرمایا، بلکہ برعکس طور پر یہ کہا کہ مجھ کو اجازت دے کہ میں اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر ملک مصر سے باہر چلا جاؤں۔ (الشعراء ۱۷)

شریعت میں فرق کی یہ توجیہہ کرنا درست نہیں کہ ایسا بر بنائے ارتقاء ہوا ہے۔ یعنی پچھلے پیغمبروں کی شریعت سادہ شریعت تھی۔ پھر ان میں ترقی ہوتی رہی۔ گویا اگلے پیغمبر کی شریعت میں پچھلے پیغمبر کے مقابلہ میں فرق کا سبب یہ تھا کہ اگلے پیغمبر کی شریعت پچھلے کے مقابلہ میں زیادہ ترقی یافتہ تھی۔ یہ ارتقائی فرق جاری رہا۔ یہاں تک کہ پیغمبر آخر الزماں ﷺ کو آخری ارتقاء یافتہ شریعت دے دی گئی۔

شریعتوں میں فرق و اختلاف کی یہ ارتقائی توجیہہ درست نہیں۔ خود مذکورہ آیت اس نقطۂ نظر کی تردید کر رہی ہے۔ چنانچہ اس آیت میں شریعتوں میں فرق کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ ایسا اس

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page