Al-Risala · December 2001 · page 17

قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۷

کا جواب جارحیت سے دینا مشکل انتخاب ہے اور جارحیت کا جواب صبر و تحمل سے دینا آسان انتخاب۔ مسئلہ پیدا ہونے مکی صورت میں ہنگامہ آرائی کا انداز اختیار کرنا مشکل انتخاب ہے اور مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں خاموش تدبیر اختیار کرنا آسان انتخاب۔ اصلاح کے لئے ریڈیکل طریقہ اختیار کرنا مشکل انتخاب ہے اور اصلاح کے لئے تدریجی طریقہ اختیار کرنا آسان انتخاب۔ نتیجہ کی پروا کئے بغیر پر جوش اقدام کرنا مشکل انتخاب ہے اور نتیجہ کو سامنے رکھتے ہوئے حکیمانہ اقدام کرنا آسان انتخاب۔ حکمرانوں سے محاذ آرائی کرنا مشکل انتخاب ہے اور حکمرانوں سے اعراض کرتے ہوئے تعلیم و تربیت کے دائرہ میں اپنے عمل کا آغاز کرنا آسان انتخاب۔ ان چند مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث کے مطابق، اختیار ای سر کیا ہے اور اختیار اعسر کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثناء (exception) کی۔ اسلام کی تمام تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی عملی زندگی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبر اسلام کا نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ۶۱۰ء میں مکہ میں پہلی وحی اتری۔ اللہ نے آپ کو جس مشن پر مامور کیا وہ توحید کا مشن تھا۔ اس مشن کی نسبت سے مکہ میں ایک بہت بڑا عملی مسئلہ موجود تھا۔ وہ یہ کہ کعبہ جس کو اللہ کے پیغمبر ابراہیم اور اسماعیل نے توحید کے گھر کی حیثیت سے بنایا تھا اس کو بعد کے زمانہ میں عملاً شرک کا مرکز بنا دیا گیا۔ وہاں ۳۶۰ بت رکھ دئے گئے۔

اس صورت حال کا بظاہر یہ تقاضا تھا کہ قرآن میں پہلا حکم اس مفہوم کا اترے کہ: طَهَّرِ الكعبة من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ مگر اس مسئلہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس وقت قرآن میں پہلا حکم یہ اترا کہ وثيابك فطھر (المدثر (۴) یعنی اپنے اخلاق اور سیرت کی تطہیر کرو۔ اگر پہلے ہی مرحلہ میں پیغمبر اسلام کو کعبہ کی تطہیر کا حکم دیا جاتا تو اس وقت جب کہ مکہ پر مشرکین کا غلبہ تھا، یقینی طور پر یہ حکم فوراً ٹکراؤ اور جنگ کا سبب بن جاتا۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق، پیغمبر اسلام کی دور کے تیرہ سال تک کعبہ میں پر امن طور پر نماز پڑھتے رہے جب کہ وہاں سیکڑوں کی تعداد میں بُت رکھے ہوئے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page