Al-Risala · December 2001 · page 18

قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۸

تھے۔ اسی طرح آپ نے اور آپ کے اصحاب نے عمرۃ الحدبیہ (۶۲۹ء) کے موقع پر کعبہ کا طواف کیا، جب کہ اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت بدسر موجود تھے۔

پیغمبر اسلام نے ایسا اس لیے کیا تاکہ مشرکین سے جنگ اور ٹکراؤ کو ایوائڈ کیا جا سکے اور امن کی حالت برقرار رہے۔ آپ کی پوری زندگی اسی امن پسندانہ پالیسی کی مثال ہے۔ مکہ سے ہجرت کے موقع پر مشرکین جنگ پر آماده تھے مگر آپ خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے ۔ حدیبیہ ٹریٹی (۶۲۸ء) کے موقع پر پورے معنوں میں جنگی حالات پیدا ہوگئے تھے۔ مگر آپ نے مشرکین کی یکطرفہ شرطوں پر راضی ہو کر ان سے امن کا معاہدہ کر لیا۔ غزوۂ خندق ( ۶۲۷ء) کے موقع پر مشرکین کی بارہ ہزار فوج مدینہ کی سرحد پر جنگ کا چیلنج کر رہی تھی۔ مگر آپ نے لمبی خندق کھود کر اپنے اور دشمنوں کے درمیان ایک فاصل (buffer) قائم کر دیا، وغیرہ۔

اسلام تو توحید کا مشن ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو ایک اللہ کا پرستار بنایا جائے۔ لوگوں کے دل و دماغ کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ صرف ایک اللہ سے محبت کریں (البقرہ ۱۶۵) اور صرف ایک اللہ سے خوف کریں (التوبہ ۱۸)۔ صرف ایک اللہ ان کا سب سے بڑا کَنْسَرن (concern) بن جائے۔ اس قسم کا دعوتی مشن جنگ اور متشددانہ ٹکراؤ کا تحمّل نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ جنگ اور تشدد کے حالات پیدا ہونے کے بعد وہ معتدل فضا ختم ہو جاتی ہے جب کہ ذہنی اصلاح اور روحانی انقلاب کی کوئی تحریک مؤثر طور پر چلائی جا سکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پر امن حالات ہمیشہ اسلام کے لئے موافق فضا بناتے ہیں اور پر تشدد حالات ہمیشہ اسلام کے لئے مخالف فضا وجود میں لاتے ہیں۔ جنگ ایک ریاستی عمل اسلام میں جنگ عوام کا کام نہیں ہے بلکہ وہ باضابطہ طور پر قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ یعنی جس طرح عوام وقت آنے پر بطور خود نماز پڑھ لیتے ہیں اسی طرح وہ بطور خود جنگ یا قتال نہیں کر سکتے۔ جنگ یا قتال کا اعلان صرف ایک قائم شدہ ریاست کر سکتی ہے۔ حکومت اگر پکارے تو عوام اس کے معاون بن کر اس کے تحت شریک ہو سکتے ہیں مگر خود سے وہ ہرگز کوئی جنگ نہیں چھیڑ سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page