قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۹
قرآن میں ایک عمومی حکم کے طور پر یہ اصول بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی خوف (خارجی حملہ) کی صورت پیدا ہو تو عوام کو خود سے کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہئے۔ ان کو صرف یہ کرنا چاہئے کہ وہ اس معاملہ کو اولو الأمر (النساء ۸۳) یعنی حکام تک پہنچائیں اور انہیں موقع دیں کہ وہ حسب ضرورت اپنی جوابی کارروائی کا منصوبہ بنائیں ۔
یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: انما الإمام جنة، يقاتل من وراء ه و يتقى به (البخاری، کتاب الجہاد) یعنی حکمراں ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اسی کے ذریعہ بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قتال کا اعلان یا اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ عامۃ المسلمین اس کی ماتحتی میں رہ کر اور اس کے زیر حکم حسب ضرورت اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، اس سے آزاد ہو کر نہیں۔
اس اسلامی اصول سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اس غیر حکومتی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں جس کو عام طور پر گوریلا وار (Gorilla War) کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ گوریلا وار عوام کی آزاد تنظیموں کی طرف سے لڑی جاتی ہے، نہ کہ حکومتی ادارہ کی طرف سے ۔ خود حکومتی ادارہ کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ کسی ملک یا قوم کے خلاف دفاعی جنگ لڑنا چاہتی ہے تو قرآن کے مطابق، پہلے وہ اس کا باضابطہ اعلان کرے۔ اور اگر اس کے خلاف کوئی معاہدہ ہے تو اس معاہدہ کو وہ منسوخ کر دے (الانفال ۵۸) اسلام میں اعلان کے ساتھ جنگ ہے، بلا اعلان جنگ (undeclared war) اسلام میں نہیں۔ اس اصول کے مطابق، پراکسی وار (proxy war) اسلام میں جائز نہیں۔
اسلام کے تمام اعمال کی کچھ شرائط ہیں۔ اسی طرح اسلام میں جنگ کے لئے بھی کچھ لازمی شرائط ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جنگ خواہ کوئی باقاعدہ مسلم حکومت کرے، اور خواہ وہ دفاعی ہو، تب بھی اس جنگ کا نشانہ جارح لوگوں تک محدود ہوگا۔ یعنی اس جنگ میں مسلمانوں کی فوج صرف مقاتلین (combatants) پر وار کر سکتی ہے، غیر مقاتلین (non combatants) کو اپنے حملہ کا نشانہ بنانا پھر بھی جائز نہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues