Al-Risala · December 2001 · page 20

دشمن اور جارح کا فرق

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۰

چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم ان لوگوں کے ساتھ جنگ نہ کرو جنہوں نے تم سے جنگ نہیں کی۔ ایسے لوگوں کے ساتھ تم حسن سلوک اور انصاف کا معاملہ کرو۔ البتہ جن لوگوں نے تم سے جنگ کی ان سے جنگ کرنے کے لئے تم آزاد ہو۔ ان کے ساتھ تمہارا معاملہ دوستی کا معاملہ نہیں (الممتحنہ ۸-۹)

اگر بالفرض کسی قوم کے ساتھ مسلم حکومت کی جنگ چھڑ جائے اور یہ جنگ اسلامی شرائط کے مطابق ہو تب بھی مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہ ہوگا کہ وہ عام شہریوں کے خلاف اس قسم کی تخریبی کارروائی کریں جیسی تخریبی کارروائی کے طور پر ، ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک اور واشنگٹن میں کی گئی۔ اسی طرح جائز اسلامی جنگ میں بھی مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ فریق ثانی پر خود کش بمباری کریں۔ یعنی بالقصد اپنے جسم پر بم باندھ کر فریق ثانی کی فوجی یا شہری آبادی پر ٹوٹ پڑیں اور جان بوجھ کر اپنے کو ہلاک کر کے فریق ثانی کو ہلاک کریں۔ اس قسم کا معاملہ ہرگز شہادت یا استشہاد نہیں۔ اسلام میں شہید ہونا ہے، اسلام میں شہید کروانا نہیں ہے۔

دشمن اور جارح کا فرق

اللہ نے اپنی حکمتِ امتحان کے تحت دنیا میں انسان کو آزادی دی ہے۔ اس آزادی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں قائم ہوتی ہیں (طٰہٰ ۱۲۳)۔ حتی کہ لوگوں کے درمیان جنگ کی نوبت آجاتی ہے۔ مگر اسلام میں دشمنی اور جنگ دونوں میں واضح فرق کیا گیا ہے۔ اہل اسلام کو یہ حق نہیں کہ وہ جس کو اپنا دشمن سمجھیں اس کے خلاف وہ جنگ چھیڑ دیں۔ دشمن کے مقابلہ میں اہل اسلام کو صرف پر امن دعوت کا کام کرنا ہے، نہ کہ ان سے جنگ چھیڑ دینا۔ اس سلسلہ میں قرآن میں واضح حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (حم السجدہ ۳۳، ۳۴)۔ گویا اسلام میں دشمن کو پر امن کوشش کے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page