دشمن اور جارح کا فرق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۱
ذریعہ اپنا دوست بنانا ہے، نہ کہ اس کو دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کرنا۔ اسلام میں جنگ کی اجازت ہے مگر یہ اجازت صرف ان حالات میں ہے جب کہ اعراض کے باوجود فریق ثانی حملہ کر دے اور حقیقی دفاع کی صورت پیدا ہو جائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا (الحج ۳۸) یعنی ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دی گئی جن کے خلاف جنگ کی جاتی ہے اس سبب سے کہ ان پر ظلم ہوا۔ قرآن میں دوسری جگہ جنگ کی اجازت دیتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ فریق ثانی ہے جس نے پہلی بار جنگ کی ابتداء کی (التوبہ ۱۳)۔ معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق، جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حملہ آور کے خلاف ہے۔ مسلمان اگر کسی کو اپنا دشمن سمجھیں تو ان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس کے خلاف حملہ کر دیں۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اول و آخر جو حق دیا گیا ہے وہ پر امن دعوت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ متشددانہ جارحیت کے خلاف دفاعی جنگ اسلام میں جائز ہے، مگر وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہوں۔ پیغمبر اسلام کا عملی نمونہ اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ جنگ ایک غیر مطلوب شے اسلام کے لئے جنگ کا ماحول اتنا ہی غیر مطلوب ہے جتنا کہ تجارت کے لئے نفرت و تشدد کا ماحول غیر مطلوب ہے۔ تجارت امن اور اعتدال کے ماحول میں کامیاب ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلام کے مقاصد صرف امن کے حالات اور نارمل تعلقات میں حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ: أيها الناس لا تتمنوا لقاء العدو، و سلوا الله العافية (البخاری، کتاب الجہاد) یعنی اے لوگو، تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ تم اللہ سے امن مانگو۔
جنگ کرنے والے ہمیشہ سیاسی اقتدار کی حصول کے لئے جنگ کرتے ہیں اور سیاسی اقتدار اسلام میں کوئی ایسی چیز ہی نہیں جس کے حصول کے لئے جنگ کی جائے۔ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار اہل اسلام کا نشانہ نہیں بلکہ وہ ایک امر موعود (النور ۵۵) ہے۔ قرآن کے مطابق، اقتدار کا مالک اللہ ہے، وہی جس کو چاہتا ہے اسے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس سے اس کو چھین لیتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues