دشمن اور جارح کا فرق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۲
( آل عمران ۲۶) یہی وجہ ہے کہ اقتدار اور سیاسی فتح کبھی ایک کے حصہ میں آتی ہے اور کبھی دوسرے کے حصہ میں ( آل عمران ۱۴۰)۔
اس قرآنی حقیقت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا ملنایا سیاسی اقتدار کا چھینا جانا دونوں فطرت کے قانون کے تحت پیش آتے ہیں، اقتدار نہ کسی گروہ کو اس کی کوشش سے ملتا ہے اور نہ کسی دوسرے گروہ کی سازش اس کو کسی سے چھین سکتی ہے۔ جنگ کے بغیر فتح پیغمبر اسلام کی زندگی میں ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ (۶۲۸ء) کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام اس وقت مدینہ میں تھے اور مکہ اہل شرک کے قبضہ میں تھا جو اس وقت آپ سے برسر جنگ تھے۔ پیغمبر اسلام نے عمرہ کی عبادت کے لئے مکہ جانا چاہا کیوں کہ کعبہ مکہ میں ہے، اس بنا پر عمرہ کی عبادت مکہ ہی میں ادا کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ سفر خالص عبادتی سفر تھا۔ مگر مکہ والوں نے اس کو اپنے لئے عزت (prestige) کا سوال بنالیا۔ انہوں نے آپ کو مکہ سے باہر حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور کہا کہ آپ یہاں سے واپس جائیں۔ یہ بحث یہاں تک بڑھی کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس وقت پیغمبر اسلام کے ساتھ چودہ سو مسلمان تھے۔ اگر یہ لوگ اس پر اصرار کرتے کہ وہ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کریں گے تو یقینی طور پر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی۔ مگر پیغمبر اسلام نے مشرکین کے مطالبہ کو مان لیا اور دس سال کا امن معاہدہ کر کے حدیبیہ سے مدینہ واپس آ گئے۔ معاہدہ حدیبیہ بظاہر مقابلہ کے میدان سے واپسی کا معاہدہ تھا۔ مگر جب یہ معاہدہ ہو گیا تو قرآن میں اس کو اہل اسلام کے حق میں فتح مبین (الفتح ۱) قرار دیا گیا۔ اُس وقت کے حالات میں اس کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگوں نے اپنے حریف سے جنگ نہ کر کے ان کے اوپر فتح حاصل کر لی۔ اس کا مطلب یہ تھا ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جنگ سے اعراض کر کے اور امن کا معاہدہ کر کے اہل اسلام کو یہ موقع (opportunity) حاصل ہو گیا کہ وہ اپنی طاقتوں کو جنگ میں ضائع ہونے سے بچائیں اور اس کو مکمل طور پر تعمیر اور استحکام میں لگائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ تاریخ بتاتی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues