دشمن اور جارح کا فرق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۳
کہ حدیبیہ کے معاہدہ امن کے بعد دو سال کے اندر اہل اسلام نے اپنے آپ کو اتنا مستحکم بنا لیا کہ وہ اس حیثیت میں ہو گئے کہ کسی باقاعدہ لڑائی کے بغیر صرف پر امن تدبیر کے ذریعہ مکہ پر فتح حاصل کر لیں ۔ ’’جنگ کے بغیر فتح‘‘، کا یہ اصول بلاشبہ اسلام کا ایک نہایت اہم اصول ہے۔ یہ اصول فطرت کے اٹل نظام پر قائم ہے۔ وہ افراد اور گروہوں کے لئے بھی اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ حکومتوں کے لئے۔ اس اصول کو ایک جملہ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے—ٹکراؤ اعراض کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔
Avoid the confrontation, and avail the opportunities. قتال برائے ختم قتال قرآن میں رسول اور اصحاب رسول کو جو احکام دیے گئے، ان میں سے ایک حکم یہ تھا: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة و يكون الدين كله لله فإن انتهوا فإن الله بما تعملون بصير (الانفال (۳۹) یعنی اور ان سے سے لڑو یہاں تک کہ فتنه باقی نه رهے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھتا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
اس آیت کے دو حصے ہیں۔ یہاں ایک ہی بات کو پہلے منفی اور اس کے بعد مثبت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنے کی حالت کو اس طرح ختم کر دو کہ پوری طرح غیر فتنے کی حالت قائم ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان کی پیدا کردہ مصنوعی حالت نہ رہے بلکہ خدا کی مقرر کی ہوئی فطری حالت واپس آجائے۔
اس آیت میں فتنے سے مراد مذہبی جبر ہے جو قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں رائج تھا۔ قدیم زمانہ میں ہر جگہ بادشاہت کا رواج تھا۔ اس زمانہ میں زندگی کے صرف دو بڑے شعبے تھے—اقتدار اور زمین ۔ یہ دونوں شعبے مکمل طور پر بادشاہ کے ہاتھ میں ہوتے تھے۔ اس طرح پوری انسانی زندگی عملاً بادشاہ کے قبضہ میں رہتی تھی۔ حتیٰ کہ لوگوں کا مذہب بھی وہی ہوتا تھا جو بادشاہ کا مذہب ہوتا تھا۔ اس زمانہ کی حالت کو ایک قدیم عربی مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: الناس على دين ملوکهم
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues