دشمن اور جارح کا فرق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۴
(لوگ اپنے بادشاہوں کے مذہب پر ہوتے ہیں)۔
قدیم زمانہ میں جبر کی یہ صورت حال خدا کی فطری اسکیم کے خلاف تھی۔ اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں ایک قسم کی سیاسی مرکزیت (political centralization) قائم ہوگئی تھی۔ اس نظام کے اندر ہر کام صرف بادشاہ کی اجازت کے تحت ہوسکتا تھا۔ عام افراد کوئی بھی کام آزادانہ طور پر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے تھے۔ یہ تقریباً وہی صورت حال تھی جس کا ایک نمونہ کمیونسٹ ڈکٹیٹر شپ کے تحت قائم شدہ سابق سوویت یونین میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اللہ کو مطلوب تھا کہ سیاسی جبر کے اس غیر فطری نظام کو ختم کر دیا جائے اور زندگی کا پورا نظام اس حالت فطری پر قائم ہو جائے جو اللہ نے امتحان کی مصلحت کے تحت انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ یعنی سیاسی اقتدار کی اجازت کے بغیر ہر آدمی آزادانہ طور پر وہ کام کر سکے جس کو وہ کرنا چاہتا ہے۔ اسلام کے دور اول میں ملوکیت کو ختم کر کے خلافت کا قیام اسی عمل کا آغاز تھا۔ یہ نظام سب سے پہلے عرب میں قائم کیا گیا۔ اس وقت کی دنیا میں دو بڑی سلطنتیں __ بازنطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر قائم تھیں۔ ان سلطنتوں کے لئے مذکورہ قسم کا اصلاحی پروگرام ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس اصلاحی تحریک کو کچلنا چاہا۔ اس کے نتیجہ میں اصحاب رسول کا ان سلطنتوں کے ساتھ زبردست مقابلہ پیش آیا۔ اللہ کی مدد سے اس مقابلہ میں اصحاب رسول کو کامیابی حاصل ہوئی اور اس جبری نظام کا خاتمہ ہو گیا۔ جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین (Henry Pyrrene) نے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔
ہزاروں سال سے قائم شدہ جبری نظام کو ختم کر کے آزادی کا نظام قائم کرنا ایک انتہائی انقلابی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ اپنے پہلے ہی دور میں مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اسلام کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اللہ کی مدد سے ساتویں صدی عیسوی میں اس قدیم جبری نظام کے تاریخی تسلسل کو توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ تبدیلی ایک عمل (process) کے روپ میں انسانی تاریخ میں داخل ہوگئی۔ یہ عمل مختلف قسم کے فطری نشیب و فراز کے ساتھ مسلسل جاری رہا یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues