Al-Risala · December 2001 · page 25

دشمن اور جارح کا فرق

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۵

عدم مرکزیت (de-centralization) کا یہ واقعہ بیسویں صدی کے آغاز ہی میں پیش آگیا۔ اب سیاسی اقتدار محدود ہو کر صرف انتظامیہ (administration) کی حیثیت میں باقی رہا۔ اب سیاسی ادارہ کا دخل زندگی کے ایک فیصد حصہ تک محدود ہو گیا۔ اور زندگی کے بقیہ ننانوے شعبے اس طرح آزاد ہو گئے کہ ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق، ان کو اپنے لئے استعمال کر سکے۔

انسانی زندگی کے نظام میں یہ عظیم تبدیلی عین اسلام کے حق میں تھی۔ اب (دوسروں کی طرح) اہل اسلام کے لئے یہ ممکن ہو گیا کہ سیاسی معنوں میں خواہ وہ حکمران ہوں یا نہ ہوں، زندگی کی تعمیر و تشکیل میں وہ اپنا ہر منصوبہ کسی رکاوٹ کے بغیر چلا سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تبدیلی نے زندگی کے نظام کو بادشاہت کے دور سے نکال کر اداروں (institutions) کے دور میں پہنچا دیا۔

اب اہل اسلام کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ ہر قسم کے ادارے قائم کر کے زندگی کے تمام شعبوں پر قابض ہو سکیں۔ حتیٰ کہ خود سیاسی ادارہ کو بھی بالواسطہ انداز میں اپنے زیر اثر کر لیں۔ مذکورہ تبدیلی کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اہل اسلام بڑے پیمانے پر ہر قسم کے آزادانہ ادارے قائم کریں، اور اداروں کے ذریعہ معاشرہ میں وہ نفوذ حاصل کر لیں جو پہلے صرف سیاسی اقتدار کے ذریعہ ممکن ہوا کرتا تھا۔ مثلاً تعلیمی اداروں کے ذریعہ نئی نسلوں کی تربیت، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ عمومی فکری فضا بنانا، کتابوں کے ذریعہ اپنے افکار کی اشاعت، تحقیقی اداروں کے ذریعہ اجتہاد کا عمل جاری رکھنا، مساجد اور مدارس کے ذریعہ اپنے مذہب کی حفاظت، صنعتی اداروں کے ذریعہ مالیات کا حصول، مواصلات کے ذریعہ اپنے مقاصد کی عالمی تنظیم، مختلف قسم کے این جی او (NGOs) کے ذریعہ اپنے مذہبی اور ثقافتی امور کی تنظیم، وغیرہ۔

موجودہ زمانہ میں جن قوموں نے تبدیلی کے اس راز کو سمجھ لیا ہے وہ بظاہر سیاسی اقتدار کی کرسی پر نہ ہوتے ہوئے بھی ہر قسم کی کامیابیاں حاصل کئے ہوئے ہیں۔ کسی گروہ نے ملک کے اندر اپنا تعلیمی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے صنعتی ایمپائر ۔ کسی نے اپنا اشاعتی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے مواصلاتی ایمپائر۔ کسی نے اپنا مالیاتی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے معالجاتی ایمپائر ۔ اس غیر ریاستی ایمپائر کی آخری

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page