Al-Risala · February 2001 · page 13

شریعت اور دین کا فرق

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۳

لئے کیا گیا تا کہ اللہ لوگوں کو آزمائے (لیبلوکم فی ما آتاکم)۔ یعنی خود قرآن کے بیان کے مطابق، مختلف پیغمبروں کی شریعتوں میں فرق بربناء ابتلاء تھا نہ کہ بربناء ارتقاء۔ اصل یہ ہے کہ ہر عبادتی فعل کی ایک روح ہوتی ہے اور دوسرے، اس کا ظاہری ڈھانچہ۔ ابتداء میں جو لوگ ایمانی زندگی اختیار کرتے ہیں وہ اس فرق کو جانتے ہیں اس لئے وہ روح عبادت کے معاملہ میں زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے جمود پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے اندر داخلی روح باقی نہیں رہتی۔ وہ ظواہر عبادت کو اصل سمجھ لیتے ہیں۔ اور بس اس کی ظاہری تکمیل کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے عبادت کا فعل انجام دے دیا۔

جب امتوں سے روح دین نکل جاتی ہے اور اس کے افراد جمود میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کے ذریعہ بعض ظواہر میں تبدیلی کا حکم دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے ظواہر ہی کو اصل سمجھ لیا تھا وہ انہی قدیم ظواہر سے چمٹے رہتے ہیں۔ وہ نئی عبادتی شکل کو قبول نہیں کر پاتے۔ حتیٰ کہ اس بنا پر وہ اپنے ہم زمانہ پیغمبر کا انکار کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے اندر روح دین زندہ ہوتی ہے وہ ظواہر کے فرق کو اہمیت نہیں دیتے، وہ دل کی آمادگی کے ساتھ قدیم فارم کو چھوڑ کر نئے فارم کو اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی معاملہ قدیم مدینہ میں اس وقت پیش آیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قبلہ عبادت کو بدل دیا گیا۔ (البقرہ ۱۴۲)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی یہ عمل جزئی طور پر جاری ہے۔ جہاں تک عبادت کے ظواہر کا تعلق ہے، ان میں اب تبدیلی ممکن نہیں کیوں کہ عبادات کے ظواہر میں تبدیلی کا معاملہ اجتہادی نہیں ہے۔ اس قسم کی تبدیلی صرف پیغمبر کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ اب چونکہ کوئی پیغمبر آنے والا نہیں، اس لئے اب عبادات کے ظواہر میں فرق یا تبدیلی کا پیش آنا بھی ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page