امن کی طاقت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۶
مثال کمپیوٹر ایمپائر ہے جس نے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر پورے نظامِ زندگی کو اپنے کنٹرول میں لے سکیں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی آیت (ویکون الدین کلہ للہ) کا ایک اہم پہلو یہی زمانی تبدیلی ہے۔ اس تبدیلی نے سیاسی اقتدار کو گھٹا کر اب اس کو صرف ایک قسم کا سیاسی دردِ سر (political headache) بنا دیا ہے۔ اب اہل اسلام کے لئے ضروری نہیں کہ وہ سیاسی اقتدار کے حصول کے لئے جنگل کریں۔ سیاسی اقتدار ، خواہ جس کسی کے قبضہ میں ہو، وہ ہر حال میں ایسا کر سکتے ہیں کہ غیر سیاسی ادارے قائم کرکے اپنے تمام مطلوب فائدے حاصل کرلیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل اسلام سیاست سے دست بردار ہو جائیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اداروں اور تنظیموں کے ذریعہ ملنے والے فوائد کو حاصل کرتے ہوئے وہ محدود دائرہ میں پرامن سیاسی عمل کا طریقہ اپنا ئیں ۔ وہ سیاسی ہنگامہ آرائی سے مکمل پر ہیز کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنا خاموش سیاسی سفر جاری رکھیں ، یہاں تک کہ اللہ ان کے لیے وہ مواقع کھول دے جو انہیں سیاست کے ادارہ تک بھی پہنچادے۔
امن کی طاقت
حدیث میں آیا ہے : ان اللہ يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف ( صحيح مسلم، کتاب البر) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس حدیث کے مطابق ، پر امن طریق کار (peaceful activism) کو متشددانہ طریق عمل (violent activism) کے اوپر واضح فوقیت حاصل ہے۔
اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پر اسرار بات نہیں ۔ یہ ایک سادہ اور معلوم فطری حقیقت ہے۔ جنگ اور تشدد کی صورت حال میں یہ ہوتا ہے کہ طرفین کے درمیان نفرت اور عداوت بھڑکتی ہے۔ موجود ذرائع تباہ ہوتے ہیں۔ دونوں طرف کے بہترین افراد قتل کئے جاتے ہیں۔ پورا سماج منفی نفسیات کا جنگ بن جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں تعمیر و استحکام کا کوئی کام نہیں کیا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues