Al-Risala · December 2001 · page 27

امن کی طاقت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷

جاسکتا۔ جنگ و تشدد میں نقصان تو یقینی ہے مگر نقصان کے باوجود اس میں کوئی فائدہ نبیس۔ اس کے برعکس امن کا ماحول ہو تو لوگوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ دوستی اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ موافق ماحول کے نتیجہ میں تعمیری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔ موجود ذرائع کو ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ لوگ مثبت نفسیات میں جیتے ہیں جس کی بنا پر علمی اور فکری ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔

جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ مواقع کار کو مسدود کرتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں امن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ مواقع کار کو آخری حد تک کھول دیتی ہے۔ جنگ سے ہمیشہ مزید نقصان ہوتا ہے، اور امن سے ہمیشہ مزید فائدہ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر قیمت پر اور آخری حد تک جنگ اور ٹکراؤ سے اعراض کی تعلیم دیتا ہے۔ اور امن کو ہر قیمت پر قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ایک مغالطہ کی وضاحت قرآن میں بعض آیتیں ایسی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے : اور ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ (البقرہ ۱۹۱) اس طرح کی آیتوں کو لے کر کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام جنگ اور قتال کا مذہب ہے۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اس طرح کی آیتیں محدودطور پر صرف ان لوگوں سے متعلق ہیں جنہوں نے اہل اسلام پر ایک طرفہ حملہ کر دیا ہو، وہ اسلام کا کوئی عمومی حکم نہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن بیک وقت ایک مکمل کتاب کی صورت میں نہیں آیا، بلکہ وہ ۲۳ سال کی مدت میں وقفہ وقفہ کے ساتھ حالات کے مطابق، نازل ہوا۔ ۲۳ سال کی اس مدت کو اگر امن اور جنگ کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے تو تقریباً بیس سال کی مدت امن سے متعلق ہوگی اور تقریباً تین سال کی مدت جنگ سے متعلق۔ جنگ یا قتال کی آیتیں مذکورہ تین سال کے دوران اتریں۔ ان کے علاوہ ہیں سال کی مدت میں جو آیتیں اتریں وہ سب کی سب پر امن تعلیمات سے تعلق رکھتی تھیں۔ مثلاً معرفت، عبادت، اخلاق، عدل، وغیرہ۔

احکام کی یہ تقسیم ایک فطری تقسیم ہے۔ وہ اس قسم کی ہر کتاب میں پائی جاتی ہے۔ مثال کے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page