Al-Risala · December 2001 · page 28

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۸

طور پر ہندوازم کی مقدس کتاب گیتا کو لیجیے۔ گیتامیں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو حکمت اور اخلاق سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسی کے ساتھ گیتامیں یہ بھی ہے کہ کرشن جی ارجن سے کہتے ہیں کہ اے ارجن، آگے بڑھ اور یدھ(جنگ) کر۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ گیتا کو ماننے والے بس ہر وقت جنگ کرتے رہیں۔ چنانچہ اسی گیتا سے مہاتما گاندھی نے اپنا اہنسا کا فلسفہ تشکیل دیا۔ کیوں کہ جنگ کی بات گیتامیں استثنائی طور پر حالت جنگ کے لئے ہے۔ عمومی زندگی کے لئے اس میں وہی پر امن احکام بتائے گئے ہیں جو مہاتما گاندھی نے اس سے اخذ کئے اسی طرح بائبل (نیا عہد نامہ) میں حضرت مسیح کی زبان سے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں (متی، باب ۱۰)۔ ان الفاظ کا یہ مطلب لینا درست نہ ہوگا کہ حضرت مسیح کا دین جنگ و قتال کا دین تھا۔ اس لئے کہ آپ کی تعلیمات میں اس طرح کی کلام کی حیثیت صرف استثنائی ہے اور کسی خاص موقع سے متعلق ہے۔ جہاں تک عمومی زندگی کا تعلق ہے، حضرت مسیح نے ہمیشہ اخلاق اور محبت جیسی پر امن قدروں کی تعلیم دی۔ یہی معاملہ قرآن کا بھی ہے۔ پیغمبر اسلام نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس کے بعد مشرک قبائل نے آپ کے خلاف جارحانہ حملے کرنے شروع کر دیے۔ آپ ہمیشہ ان حملوں کو صبر و اعراض کی تدبیروں سے ٹالتے رہے۔ تاہم بعض مواقع پر ایسا ہوا کہ جوابی مقابلہ کے سوا کوئی اور انتخاب (option) موجود ہی نہ تھا۔ اس لئے آپ نے وقتی طور پر ان سے دفاعی جنگ کی۔ یہی وہ حالات تھے جن کے پیش آنے پر قرآن میں جنگ کے استثنائی احکام اترے۔ یہ احکام یقینی طور پر وقتی نوعیت کے تھے، نہ کہ ابدی نوعیت کے۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبر اسلام کی مستقل حیثیت کو رحمت للعالمین (الانبیاء: ۱۰۷) سے تعبیر کیا گیا۔ یعنی سارے عالم کے لئے رحمت۔

اسلام میں ٹررزم نہیں

اسلام کے مطابق، ٹیررزم (دہشت گردی) کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ ٹیررزم سادہ طور پر، غیر ریاستی تشدد کا دوسرا نام ہے۔ تشدد کے ذریعہ کسی مقصد کا حصول، بوقت ضرورت، صرف باقاعده

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page