اسلام میں ٹررزم نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۹
طور پر قائم شدہ حکومت کے لئے درست ہے۔ غیر حکومتی افراد یا جماعتوں کے لئے کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ اختیار کرنا درست نہیں۔ اگر کسی شخص یا گروہ کو کوئی شکایت ہو تو اس کے لئے جائز طور پر صرف دو صورتیں ممکن ہیں۔ یا تو وہ پرامن حدود میں رہ کر اپنی شکایت کا حل تلاش کرے، یا وہ اپنے معاملہ کو عدالت اور حکومت کے سپرد کر دے تا کہ وہ قانون کے مطابق، دخل دے کر اس کے معاملہ کو حل کرے۔
آج کل میڈیا میں اکثر اسلامک ٹیر رزم (اسلامی دہشت گردی) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ بلاشبہ غلط ہے۔ اسلام کو ٹیر رزم کے ساتھ کوئی نسبت نہیں۔ تا ہم اس معاملہ میں اصل ذمہ دار میڈیا نہیں ہے بلکہ وہ مسلمان ہیں جو میڈیا کو موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کے عمل کو اس قسم کے عنوان کے ساتھ رپورٹ کریں۔
موجودہ زمانہ میں مسلمان مختلف مقامات پر غیر حکومتی جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ یہ تمام جنگیں یقینی طور پر ملک کے لئے یا مسلم قومی مفاد کے لئے ہیں۔ مگر جو مسلمان اس قسم کی متشددانہ تحریکیں چلا رہے ہیں وہ ان کو اسلامی جہاد کا نام دیتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ میڈیا کا کام تجزیہ کرنا نہیں ہے بلکہ رپورٹ کرنا ہے۔ چنانچہ میڈیا مسلمانوں کے اس قسم کے متشددانہ عمل کو اسی طرح اسلام کے ساتھ منسوب کر دیتا ہے جس طرح خود مسلمان ان کو اسلام کے ساتھ منسوب کئے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسلمان جب اپنے تشدد کو اسلام کا عنوان دیں تو میڈیا بھی اپنی رپورٹنگ میں اس کو اسلام ہی کا عنوان دے گا، نہ کہ کسی اور چیز کا۔
مسلمانوں کی اس روش نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو بہت زیادہ بد نام کیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں اسلام کی تصویر خلاف واقعہ طور پر یہ بن گئی ہے کہ اسلام نفرت اور تشدد کا مذہب ہے، نہ کہ امن اور انسانیت کا مذہب۔
مثال کے طور پر ملاحظہ ہوئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (یکم اکتوبر ۲۰۰۱) میں مسٹر امولیہ گنگولی کا مضمون اسلام کی تصویر (Image of Islam)۔ اسی طرح لندن کے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues