اسلام میں ٹررزم نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۱
سوال
چند روز قبل میں اپنے ایک دوست سے سیاسی اقتدار کی حقیقت کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ گفتگو کے دوران میرے دوست نے کہا کہ موسیٰ کی دعوت پر فرعون نے کہا تھا کہ یہ (موسیٰ) ہمیں اپنے اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔ تو کیا فرعون کے اس قول سے سیاسی اقتدار کا نشانہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ فرعون جو موسیٰ علیہ السلام کا مخاطب تھا اس کے اس قول سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی تحریک سیاسی انقلاب کی تحریک تھی جس سے فرعون اپنے لئے سیاسی خطرہ محسوس کر رہا تھا۔ اس بنا پر اس نے ایسا کہا۔ (جاوید حسین وانی، اننت ناگ، کشمیر)
جواب
فرعون کا قول ”يريد أن يخر جكم من أرضكم“، الأعراف اور الشعراء میں آیا ہے۔ اس آیت سے یہ نظریہ نکالنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مشن ایک سیاسی مشن تھا، بلاشبہ ایک مجرمانہ جسارت کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ فرعون کے قول سے موسیٰ علیہ السلام کا مشن نکالنا ہے۔ جب کہ حضرت موسیٰ کا پیغمبرانہ مشن قول موسیٰ سے نکلے گا، نہ کہ قول فرعون سے۔ استدلال کا یہ طریقہ نہایت غیر منطقی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کشمیریوں کے ایک مخالف شخص کے قول سے کشمیریوں کا مقصد متعین کیا جائے۔ اپنے ذاتی معاملہ میں کوئی بھی اس قسم کے غیر منطقی استدلال کو تسلیم نہیں کرے گا۔ پھر قرآن کے معاملہ میں ایسا استدلال کیوں کر درست ہو سکتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ اگر حضرت موسیٰ کا مقصد یہ تھا کہ فرعون کو تخت سے بے دخل کر کے مصر میں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں تو حضرت موسیٰ نے نعوذ باللہ، خود اپنے مشن کے خلاف عمل کیا۔ کیوں کہ جب فرعون اور اس کا لشکر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تو اس کے بعد حضرت موسیٰ کے لئے بہترین موقع تھا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ واپس آ کر مصر کے اقتدار پر قبضہ کر لیں۔ مگر اس کے برعکس حضرت موسیٰ نے یہ کیا کہ وہ مصر کو چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ صحرائے سینا کے غیر آباد علاقے میں چلے گئے۔ مذکورہ سیاسی تفسیر کو ماننے کی صورت میں حضرت موسیٰ کے اس عمل کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues