Al-Risala · December 2001 · page 32

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۲

اس قسم کے واضح حقائق کے باوجود جو لوگ حضرت موسیٰ کے مشن کو سیاسی مشن بتائیں وہ صرف اس قابل ہیں کہ ان کے ساتھ قرآن کے اس حکم پر عمل کیا جائے: واعرض عن الجاهلين۔ سوال میں دبئی میں رہتا ہوں۔ وہاں میری ملاقات اکثر پاکستانی لوگوں سے ہوتی ہے۔ ان کو میں ماہنامہ الرسالہ اور الرسالہ کی دوسری مطبوعات پڑھنے کو دیتا ہوں۔ یہ لوگ عام طور پر اس کو پسند کرتے ہیں مگر اکثر پاکستانی مسلمان ایک شبہہ کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب تک ہم یہ جانتے تھے کہ اسلام کی خاص صفت یہ ہے کہ وہ ایک مکمل سیاسی نظام ہے۔ اور ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم جہاد کرکے اس سیاسی نظام کو قائم کریں۔ مگر الرسالہ اور الرسالہ مطبوعات میں ہم کو اسلام کا یہ تصور نہیں ملتا۔ آخر یہ فرق کیوں ہے۔ (ادریس محمد انصاری، دبئی)

جواب

یہ صرف پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں۔ موجودہ زمانہ کے اکثر مسلمان اسی غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ اسلام ایک سیاسی نظام ہے اور جہاد کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں سے لڑ کر اس سیاسی نظام کو قائم کیا جائے۔ مگر یہ ایک سیاسی بدعت ہے جو موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین نے پھیلائی ہے۔ انہوں نے اسلام کو گھٹا کر اس کو صرف ایک سیاسی نظام بنا دیا ہے۔

They have reduced Islam to a mere political system. اسلام کا یہ سیاسی تصور صرف ایک ردِ عمل ہے جو موجودہ حالات کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔ وہ یقینی طور پر قرآن اور سنت سے ماخوذ نہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق، اسلام ایک ربانی نظام کا نام ہے، نہ کہ کسی سیاسی نظام کا نام (آل عمران ۷۹)

اسلام کا مقصد ہر انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور محبت پیدا کرنا ہے، نہ کہ اسلامی سیاست کے قیام کے نام پر حکمرانوں سے لڑائی چھیڑنا اور پورے سماج کو تشدد کا جنگل بنا دینا۔ جیسا کہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین کے پیرو دنیا کے بہت سے ملکوں اور علاقوں میں انجام دے رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page