اسلام میں ٹررزم نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۳
یہ نام نہاد اسلامی سیاست ہر جگہ عملاً وہی چیز بن گئی ہے جو قرآنی اصول کے مطابق، ایک فسادی سیاست ہے (البقرہ ۲۰۵)۔
اسلام کا آغاز اللہ کی ذاتی معرفت سے ہوتا ہے۔ اسلام ایک ایسے شعوری واقعہ کا نام ہے جب کہ ایک آدمی اللہ کو اس کی ذات اور صفات کے ساتھ دریافت کرے اور اپنے قلب اور دماغ کے ساتھ اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جائے۔ وہ اللہ کو اپنا سب کچھ بنا لے۔
اسلام کی معرفت یا اسلام کی دریافت کے بعد آدمی کے اندر ایک زبردست تبدیلی آتی ہے۔ وہ اللہ کو یاد کرنے والا بن جاتا ہے۔ وہ اپنے نفع اور نقصان، اپنی نفرت اور محبت، غرض اپنے ہر قول اور فعل کو اللہ کے لئے خاص کر دیتا ہے۔ وہ غیر اللہ سے یکسو ہو کر صرف ایک اللہ کا عبادت گزار بن جاتا ہے۔
اسی طرح اس کا اجتماعی سلوک مکمل طور پر اللہ کے تابع ہو جاتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا اخلاق، لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات، لوگوں کے ساتھ اس کا لین دین، سب اللہ کے حکم کی روشنی میں انجام پانے لگتے ہیں۔ اس کے ہر قول اور اس کے فعل میں اللہ کا رنگ غالب آجاتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے خاندان کے اندر خاندان کا ایک اچھا ممبر بن جاتا ہے۔ سماج کے اندر وہ اس کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ ملک کے اندر وہ قانون کی پابندی کرنے والا اور اپنی ڈیوٹی انجام دینے والا ایک شہری بن جاتا ہے۔ زندگی کی جس سطح پر بھی دوسروں کے ساتھ اس کا تعلق قائم ہوتا ہے وہ لوگوں کے لئے ایک سچا انسان ثابت ہوتا ہے۔ یہی اصل اسلام ہے۔
جہاں تک حکومت اور اقتدار کا تعلق ہے، وہ قرآن کے مطابق، امر مقصود نہیں، بلکہ وہ امر موعود ہے۔ (النور ۵۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا حصول اسلامی تحریک کا نشانہ نہیں ہے۔ اسلامی تحریک کا نشانہ اصلاً صرف دو چیزیں ہیں ـــــــــ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچانا اور جو لوگ اللہ کے پیغام کو قبول کر لیں ان کی تعلیم و تربیت کرنا (لِتُنذِرَ به و ذکرئ للمؤمنين) قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار امتحان کے پرچوں میں سے ایک پرچہ ہے۔ جس طرح مال کسی ایک ہی شخص یا ایک ہی گروہ کو نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues