Al-Risala · December 2001 · page 34

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۴

دیا جاتا بلکہ ہر ایک کو دیا جاتا ہے تاکہ ہر ایک کی آزمائش ہو سکے۔ یہی معاملہ سیاسی اقتدار کا بھی ہے۔ سیاسی اقتدار بھی مختلف لوگوں کو باری باری دیا جاتا ہے۔ سیاسی اقتدار کسی فرد یا گروہ کی ابدی وراثت نہیں۔ کسی ایک کو مستقل طور پر سیاسی اقتدار کا مالک بنانا گو یا دوسروں کو سیاسی آزمائش سے بری کرنا ہے۔ یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق، فتح و شکست اور سیاسی غلبہ اور سیاسی مغلوبیت باری باری کبھی ایک کے حصہ میں آتی ہیں اور کبھی دوسرے کے حصہ میں (تلک الایام نداولها بین الناس)

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اقتدار کے معاملہ کو اُخروی (الصف ۱۳) کہا گیا ہے۔ یعنی اصل اُخروی مطلوب کے علاوہ ایک اور چیز جو دنیوی حالات کے لحاظ سے درکار ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سیاسی غلبہ یا سیاسی اقتدار کی حیثیت اسلام میں اضافی ہے، نہ کہ حقیقی۔ سوال الرساله جون ۲۰۰۱ کے شمارہ میں ایک چیز میرے ذہن کو بہت زیادہ کھٹک رہی ہے۔ صفحہ ۴۶ پر آپ نے لکھا ہے کہ’’ گجرات میں غیر معمولی تباہی کا سبب یہ تھا کہ پچھلے برسوں میں وہاں کثرت سے ایسے مکانات بنائے گئے جن کو (non-engineered construction) کہا جاتا ہے۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں ثابت شدہ طریقہ یہ ہے کہ جس مقام میں معلوم طور پر زلزلہ آنے کا امکان ہو وہاں quake resistant مکان بنائے جائیں۔ اس طرح گجرات کی آفت کے ذریعہ قدرت کی طرف سے گویا یہ پیغام دیا گیا ہے کہ لوگ اپنے مکانات فن تعمیر کے اصول کے مطابق بنائیں‘‘۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کے پاس’’ کن فیکون‘‘ کی ابدی طاقت ہے، اس کے نزدیک non-engineered construction اور quake resistant کا کوئی فرق نہیں، جو خدا عاد اور قوم ثمود کے محلات کو تاخت و تاراج کر سکتا ہے جو’’ ارم ذات العماد لم یخلق مثلها فی البلاد‘‘ تھے، اس ذات قہار کے نزدیک مذکورہ باتیں چہ معنی دارد است؟ (جمیل احمد عباس، چکنوٹ، ویشالی، بہار)

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page