Al-Risala · December 2001 · page 35

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵

جواب

الرسالہ میں جو بات لکھی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ خدائی عذاب کے مقابلہ میں کوئی چیز انسان کو بچا سکتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دو چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک ہے، نظام فطرت کے تحت پیش آنے والے عام مسائل۔ اور دوسری چیز ہے، اللہ کے فیصلہ کے تحت پیش آنے والا غیر معمولی واقعہ جس کو عذاب کہا جاتا ہے۔ الرسالہ کے مذکورہ شمارہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ اول الذکر صورت حال سے متعلق ہے، نہ کہ ثانی الذکر صورت حال سے متعلق۔

برسات کی بارش سے بچنے کے لئے آپ چھت بناتے ہیں اور وہ چھت آپ کو بارش کے مسائل سے محفوظ رکھتی ہے۔ مگر قوم عاد پر عذاب کی جو بارش برسائی گئی، کوئی بھی چھت انسان کو اس سے محفوظ نہیں رکھ سکتی تھی۔ اسی طرح مخصوص حکمت کے تحت اللہ نے زمین کے اندر نہایت گرم لاوا رکھا ہے ۔ اس کی مسلسل حرکت سے زمین پر ہر روز زلزلے آتے ہیں۔ عام حالات میں یہ زلزلے اتنے خفیف ہوتے ہیں کہ صرف آلات کی مدد سے ان کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ مگر کبھی کبھی ان میں تیزی آجاتی ہے اور زمین کے اوپر کا حصہ ہلنے لگتا ہے اس وقت ہم اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔ جس طرح دوسرے فطری مسائل کے مقابلہ میں ہم بچاؤ کا انتظام کرتے ہیں۔ مثلاً بارش سے مقابلہ کے لیے چھت، سیلاب سے مقابلہ کے لیے بند، گرمی سے مقابلہ کے لیے سایہ، سرد موسم سے مقابلہ کے لیے گرم کپڑا، وغیرہ۔ اسی طرح زلزلہ سے مقابلہ کے لیے بھی مطالعہ اور تجربہ کے بعد مخصوص ٹکنیک دریافت کی گئی ہے اور اس کے استعمال سے مختلف ملکوں میں بچاؤ کا سامان کیا گیا ہے۔ مگر عذاب کا معاملہ اس قسم کے فطری مسائل سے نوعی طور پر مختلف ہے۔ عذاب ایک فیصلہ الہیٰ ہوتا ہے جو بہر حال واقع ہو کر رہتا ہے۔ مگر ہم کو یہ حق نہیں کہ ذاتی قیاس کے تحت ہم کسی واقعہ کو عذاب الہی کہیں۔ اس قسم کا اعلان صرف پیغمبر براہ راست خدائی اطلاع کی بنا پر کر سکتا تھا۔ پیغمبر کے بعد اب کسی واقعہ کو خدا کا عذاب کہنا ایک ایسی جسارت ہے جس کا تحمل اللہ سے ڈرنے والا کوئی انسان نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page