شریعت اور دین کا فرق
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۴
مگر جہاں تک منہاج کا معاملہ ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ منہاج (طریق کار) کا معاملہ بنیادی طور پر اجتہاد پر مبنی ہے۔ اور چونکہ اجتہاد امت مسلمہ میں قیامت تک جاری رہے گا اس لئے منہاج کے معاملہ میں فرق یا تبدیلی بھی علماء مجتہدین کی رایوں کے مطابق مسلسل ہوتی رہے گی۔
قرآن (الاععام ۹۰) میں پیغمبر اسلام ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم دوسرے پیغمبروں کی پیروی کرو۔ (اولئك الذين هدی الله فبهداهم اقتده)۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بار بار منہاج کے معاملہ میں پچھلے پیغمبروں کا انداز اختیار کیا۔ قرآن کے تتبع سے اس کی مثالیں معلوم کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً مخالفین کے ایذاء پر صبر کی روش اختیار کرنا (الاحقاف ۳۵)۔ فتح مکہ کے بعد پیغمبر اسلام کا سنت یوسفی پر عمل کرنا اور زیادتی کرنے والوں کو یہ کہہ کر معاف کر دینا کہ لا تثريب عليكم اليوم (يوسف ۹۲) وغیرہ۔
پیغمبروں کی شریعتوں میں فرق ہونا کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ یہ معاملہ ایک ثابت شدہ قانون فطرت پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ داعیوں کا عقیدہ یا ان کا نظریہ خواہ بالکل یکساں ہو، وہ خارجی حالات (circumstances) جن کے درمیان انہیں کام کرنا پڑتا ہے، کبھی یکساں نہیں ہوتے۔ حتیٰ کہ ایک پیغمبر کے اپنے زمانہ میں بھی حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس بنا پر بالکل فطری بات ہے کہ شریعت کے انطباق میں حالات کے اعتبار سے فرق ہو۔ مختلف پیغمبروں کی شریعتوں کا مختلف ہونا دراصل حالات کی رعایت ہی کا دوسرا نام ہے۔
مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ کے لئے جب مکہ میں حالات سخت ہو گئے تو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں۔ اس کے برعکس حضرت مسیح کے حالات بھی یروشلم میں سخت ہو گئے مگر انہیں یروشلم چھوڑ کر کہیں اور جانے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس فرق کا کم از کم ایک سبب یہ ہے کہ اس وقت مدینہ کے حالات بتا رہے تھے کہ وہ مکہ سے بالکل مختلف ہیں اور یہاں با آسانی اسلام کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔ جب کہ حضرت مسیح کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues