Al-Risala · December 2001 · page 36

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶

سوال

خدا کی حقیقت (وجود) سب سے افضل مانی جاتی ہے۔ لیکن شیطان برائی کرنے کے لیے انسان کو اکساتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے۔ مگر خدا بے بس لگتا ہے۔ شیطان کیسے خدا کے برابر طاقتور ہے۔ (بلراج اوبرائے، ریٹائرڈ جج، میرٹھ)

جواب

خدا انسان کا خالق ہے۔ خدا بلاشبہ تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ شیطان کو دنیا میں بظاہر انسان کے اوپر جو اختیار حاصل ہے اس کا تعلق خدا کی طاقت سے نہیں ہے بلکہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) سے ہے۔ شیطان کو موجودہ دنیا میں جو اختیار حاصل ہے وہ اس لیے ہے کہ خدا نے اپنی امتحانی مصلحت کی بنا پر وقتی طور پر اس کو یہ موقع دیا ہے۔ شیطان کا اختیار اس کی ذاتی صفت نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو خدا نے آزمائش (test) کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ یہاں انسان کو اس لیے بسایا گیا ہے کہ اس کو جانچ کر دیکھا جائے اور یہ فیصلہ کیا جائے کہ کون انسان اپنے حسن عمل کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو جنت کی ابدی دنیا میں بسایا جائے اور جو لوگ اپنی بدعملی کی بنا پر نالائق ثابت ہوں ان کو جنت سے محروم کر کے کائنات کے ابدی کوڑا خانہ میں ڈال دیا جائے۔ موجودہ دنیا کا پورا نظام اسی آزمائشی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کی صحیح توجیہہ صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کو اسی روشنی میں دیکھا جائے اور اس کے واقعات کی توجیہہ اسی بنیادی اصول کی روشنی میں کی جائے۔ مثلاً انسان کو موجودہ دنیا میں جو اختیار ملا ہوا ہے وہ بھی اسی آزمائشی مصلحت کی بنا پر ہے۔ انسان کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز کی جو صلاحیت ہے اس کا راز بھی یہی ہے۔ انہی میں سے ایک شیطان کا وجود بھی ہے۔

اسلامی عقیدہ کے مطابق، شیطان خفیہ نوعیت کی ایک مستقل مخلوق ہے۔ شیطان یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔ وہ انسان کو اس طرح متاثر کرے کہ برائی اس کو خوبصورت دکھائی دے، اور بھلائی اس کو بُری صورت میں نظر آئے۔ مگر شیطان کو انسان کے اوپر صرف بہکانے کا اختیار حاصل

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page