Al-Risala · December 2001 · page 37

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷

ہے۔ شیطان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ انسان کے ساتھ زبردستی کرے یا اس کو غلط راستہ پر چلنے کے لیے مجبور کر سکے۔

موجودہ دنیا میں انسان کا معاملہ ویسا ہی ہے جیسے امتحان ہال میں کسی طالب علم کا معاملہ۔ طالب علم کو امتحان ہال میں مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔ وہ اپنی کاپی پر جو چاہے لکھے اور جو چاہے نہ لکھے۔ مگر یہ آزادی صرف تین گھنٹہ کے لیے ہے۔ تین گھنٹے کا وقت پورا ہوتے ہی اس کی کاپی واپس لے لی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کے تعلیمی مستقبل کا فیصلہ اس کی اسی کارگزاری پر کیا جاتا ہے جو اس نے تین گھنٹے کے ملے ہوئے وقت میں انجام دی تھی۔

ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کا موجودہ دنیا میں ہے۔ کسی انسان کو عمر کا جو وقفہ ملا ہے وہ گویا اس کے لیے تین گھنٹہ کا وقفہ ہے۔ اس وقفہ عمل کے دوران اس کو موقع ہے کہ وہ یا تو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اپنا اعمال نامہ خراب کر لے، یا اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شیطان کے بہکاوے سے بچائے۔ وہ شیطان کو رد کر کے فرشتے کی آواز کو سنے اور سچائی کے راستہ پر قائم ہو جائے۔ جو لوگ فرشتے کی آواز کو سنیں اور اس کی پیروی کریں ان کے لیے خدا کا ابدی انعام ہے، اور جو لوگ شیطان کی آواز کو سنیں اور اس کی پیروی کریں ان کے لیے خدا کی ابدی سزا۔

شیطان کے بارے میں مذکورہ سوال صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ موجودہ دنیا ہی کو واحد دنیا سمجھا جائے۔ مگر جب موجودہ دنیا کے ساتھ آخرت کی دنیا کو ملا لیا جائے تو یہ سوال اپنے آپ حل ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا کو آخرت کی دنیا سے ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت کی دنیا اس کا بدلہ پانے کی جگہ۔ آخرت کی دنیا میں جو اعلیٰ انعام دیا جانے والا ہے وہ بے حد قیمتی ہے۔ اس قیمتی انعام کے مستحق صرف وہ بلند حوصلہ افراد ہوں گے جو شیطان کی ترغیبات (temptations) سے اپنے آپ کو بچائیں اور ہر ممکن قربانی دیتے ہوئے سچائی کے راستہ پر قائم رہیں۔ جن کی موت اس حال میں آئے کہ انہوں نے شیطان کے اوپر مکمل غلبہ پالیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page