Al-Risala · December 2001 · page 38

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸

سوال

میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ الرسالہ، مارچ ۱۹۶۵ میں ایک مضمون چھپا تھا جس میں یہ درج تھا کہ بندہ نے رمضان میں ایک مہینہ تک اللہ کے حکم کی تعمیل کی، تو اب اللہ نے اس کو قبول کرتے ہوئے اپنے انعام کے طور پر بندہ کو یہ موقع دیا کہ وہ پابندیوں سے آزاد ہو کر جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیئے (صفحہ ۱۸)۔ اس عبارت پر کچھ لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حرام وحلال کی تمیز کئے بغیر جو چاہے کھاؤ جو چاہے پیو۔ میری سمجھ سے اس عبارت کو اس طرح ہونا چاہئے تھا: پابندیوں سے آزاد ہو کر اللہ کے دیے ہوئے مال حلال سے جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیئے۔ اگر عبارت اس طرح ہوتی تو لوگوں کو اعتراض کا موقع نہ ملتا۔ (سید آصف علی، پوسٹ بکس ۲۴۸۰۲ ، شارجہ)

جواب

یہ معاملہ عبارت میں غلطی کا نہیں ہے، بلکہ یہ ان لوگوں کی سوچ کی غلطی کا معاملہ ہے جن لوگوں نے یہ اعتراض کیا۔ اگر کھلے ذہن کے ساتھ اس مضمون کو پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خود اسی مضمون میں مذکورہ اعتراض کا جواب موجود ہے۔ آپ دوبارہ پورے مضمون کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں چند سطر پہلے یہ الفاظ چھپے ہوئے موجود ہیں، رمضان کا مہینہ کھانے پینے پر پابندی لگانے کا مہینہ ہے اور عید الفطر کا دن ان پابندیوں سے آزاد ہونے کا دن ہے ۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پابندیوں سے آزادی سے مراد وہ پابندیاں ہیں جو روزہ کے دنوں میں عائد کی گئی تھیں، نہ کہ مطلق آزادی۔

یہ اعتراض نہیں ہے بلکہ شوشہ ہے۔ اور شوشہ ہر عبارت میں نکالا جا سکتا ہے، حتی کہ قرآن میں بھی، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: واذا علم من آياتنا شيئا اتخذها هزوا (الجاثیہ ۹) سوال میری ملاقات ایک جماعت کے لوگوں سے اکثر ہوتی رہتی ہے۔ وہ آپ پر نکتہ چینی کرتے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page