اسلام میں ٹررزم نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۹
ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ دعوت کی بات کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا ہے۔ الرسالہ کے خبر نامہ اسلامی مرکز میں تو ایسی خبریں موجود نہیں ہوتیں۔ (اقبال احمد فیضی، بھلائی)
جواب
سوال کرنے والے کے اندر اگر سنجیدگی ہو تو وہ اس سوال کا جواب خود ہی معلوم کر سکتا ہے۔ ہمارا مشن تقریباً چالیس سال سے چل رہا ہے۔ اس مدت میں اللہ کے فضل سے ہم نے مختلف ملکوں کے لاکھوں انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا ہے۔ ان میں سے ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، فالحمد للہ علی ذلک۔ مگر میں اور میرے ساتھی یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں اس لیے ہم اس کو خبر نامہ میں نہیں چھاپتے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس جماعت کے لوگ آپ سے اس قسم کے سوالات کرتے ہیں وہ اپنے نظریہ کے مطابق، اس ملک کو دار الطاغوت سمجھتے رہے ہیں۔ اب وہ اس ملک کو دار الدعوہ کہتے ہیں اور اپنے دعوے کے مطابق، دعوتی کام میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دار الدعوہ کا یہ تصور ان کو کہاں سے ملا۔ یقینی طور پر وہ انہیں راقم الحروف کی تحریروں سے ملا۔ ان کے اپنے جماعتی نظریہ کے مطابق، تو یہ ملک ان کے لیے صرف دار الطاغوت تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ان کے لیے صرف یہ ممکن تھا کہ وہ اس طاغوتی نظام سے لڑیں۔ پھر یا تو اسی راہ میں اپنی جان دے دیں یا اس کو اسلامی نظام میں تبدیل کر دیں۔ ان کے مسلمہ عقیدہ کے مطابق، سیاسی نظام کو بدلے بغیر دعوت کے کام کا انجام پانا ممکن ہی نہیں۔
راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے، ان حضرات کو بتایا کہ جس ملک کو تم غلط طور پر دار الطاغوت سمجھتے ہو وہ دراصل دار الدعوہ ہے یعنی یہاں آج بھی پر امن انداز میں دعوت کا عمل انجام دیا جا سکتا ہے۔ ان حضرات کے نظریہ کے مطابق، ہندوستان جیسے ملک میں ان کے لیے صرف دو ہی امکانی صورت تھی ۔ ایک یہ کہ مفروضہ طاغوتی نظام سے لڑ کر اپنے کو ہلاک کرنا، یا منافقانہ سمجھوتہ کر کے اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues