اسلام میں ٹررزم نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۰
اندر زندگی گزارنا۔ راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے ان کو اس دوطرفہ مصیبت سے نجات دی۔ ایسی حالت میں یہ حضرات میرے خلاف جو بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں وہ بے حد سنگین ہے۔ اندیشہ ہے کہ ان کی یہ روش انہیں اس حدیث رسول کا مصداق بنا دے: من لم يشكر الناس لم يشكر الله (احمد، الترمذی، بحوالہ مشکاۃ المصابیح، جلد ۲ صفحہ ۹۱۱)
سوال
قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ کا ذبوں کو ڈھیل نہیں دیتا۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ ــــــــ اور وہ کوئی بات گھڑ کر ہمارے اوپر لگاتا۔ تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑتے۔ پھر ہم اس کی رگ دل کاٹ دیتے ۔ پھر تم میں سے کوئی اس سے ہم کو روکنے والا نہ ہوتا ۔ (الحاقہ: ۴۴۔ ۴۷) اس صورت میں اگر مرزا غلام احمد قادیانی صاحب جھوٹے تھے تو کیا وجہ ہے کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی گرفت نہیں کی؟ (بہادر خاں، بارہ مولہ، جموں وکشمیر)
جواب
یہ ایک مغالطہ ہے، نہ کہ استدلال۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ” جو لوگ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں بلکہ یہ ارشاد ہوا ہے کہ اگر وہ بات گھڑتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت کا تعلق صرف ایک شخص ، یعنی محمد بن عبد اللہ سے ہے۔ اس آیت میں کوئی عام حکم بیان نہیں ہوا ہے۔ اس کا تعلق متعین طور پر ذات رسول سے ہے۔ آپ کے معاصرین آپ کے بارے میں اس قسم کا الزام لگاتے تھے، اس لیے اُن کے جواب میں یہ آیت اتاری گئی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اقرار یا انکار سے آپ کے معاصرین کی جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونا تھا۔ اس لیے آپ کے بارے میں یہ سخت اعلان کیا گیا۔ جہاں تک جھوٹے مدعیان نبوت کا تعلق ہے ان کے مخاطبین کے بارے میں اللہ کی یہ سنت نہیں۔ ان لوگوں کا فیصلہ آخرت میں ہوگا، نہ کہ دنیا میں۔
سوال
میں بہار کے ایک میڈیکل کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا طالب علم ہوں۔ یہ ایک اقلیتی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues