اسلام میں ٹررزم نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۱
ادارہ ہے جس میں ۵۰ فیصد سیٹ مسلمانوں کے لیے ریزرو ہے۔ یہ کالج A.I.C.T.E سے ریکگنائزڈ ہے اور وقتی طور پر مگدھ یونیورسٹی سے اس کا الحاق بھی ہے۔ مگر یونیورسٹی لڑکوں کا امتحان وقت پر نہیں لیتی۔ یونیورسٹی بار بار الزام عائد کرتی ہے کہ کالج ریگولر طریقہ پر نہیں چلتا ہے۔ اس لیے اس کا کوئی کام وقت پر کرنا مناسب نہیں۔ جب کہ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی خود بدعنوانی کا شکار ہے۔ میں دو سال سے فرسٹ ایئر میں ہوں مگر ابھی تک امتحان ہونے کی کوئی امید نہیں۔ اس کے متعلق کئی بار گورنر اور وائس چانسلر سے بات ہو چکی ہے پھر بھی کوئی مثبت جواب نہیں مل پایا۔ اس حال میں ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہیے ۔ برائے کرم آپ کوئی مشورہ دیں (خالد علی خاں، بہار)
جواب
میں ذاتی طور پر رعایتی ادارے قائم کرنے کے خلاف ہوں۔ اور رعایتی داخلہ کے بھی خلاف ہوں ۔ میرے نزدیک زندگی مقابلہ کا نام ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ مقابلہ کرو یا ختم ہو جاؤ: -compete or perish میرا مشورہ ہے کہ آپ اب سے یہ فیصلہ کریں کہ آپ محنت کے ذریعہ دنیا میں اپنا مقام بنائیں گے، نہ کہ رعایت کے ذریعہ۔ شکایت ہمیشہ رعایت چاہنے والوں کو ہوتی ہے۔ جو لوگ محنت کا طریقہ اختیار کریں، انہیں کبھی کسی سے شکایت نہیں ہوتی۔ جو لوگ رعایتی ادارے کھولتے ہیں، ریزرویشن کی اہمیت پر تقریریں کرتے ہیں وہ خود اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کرتے ہیں جہاں سخت مقابلہ کا ماحول ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا اصل مسئلہ کسی نہ کسی طرح ڈگری حاصل کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ زندگی میں ترقی کرنے کا ہے۔
زندگی میں اعلیٰ ترقی کبھی رعایت اور ریزرویشن کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اعلیٰ لیاقت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور اعلیٰ لیاقت محنت سے آتی ہے، نہ کہ رعایت سے۔
سوال
الرسالہ میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ظلم و زیادتی کے خلاف مسلمانوں کو صبر کی روش اختیار کرنا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues