Al-Risala · December 2001 · page 42

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۲

چاہئے۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ظلم و زیادتی پر صبر کرنا تو ظلم و زیادتی کو بڑھاوا دینا ہے۔ اس شبہ کا کیا جواب ہے۔ (ندیم احمد سنابلی، دہلی)

جواب

اس سلسلہ میں پہلی بات یہ کہ قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ارشاد ہوا ہے کہ: ولنصبرن علی ما آذیتمونا (ابراہیم ۱۲) یعنی تمہاری ایذاؤں پر ہم صبر ہی کریں گے۔ اگر ظلم و زیادتی پر صبر کرنا اس کو بڑھاوا دینے کے ہم معنی ہوتا تو پیغمبروں کو کبھی اللہ کی طرف سے یہ تعلیم نہ دی جاتی جو مذکورہ آیت کے مطابق، انہیں دی گئی۔

اصل یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ عام طور پر اس کے خلاف جوابی تدبیر کو تدبیر سمجھتے ہیں مگر یہ صرف ایک جذباتی ردِ عمل ہے۔ جس کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلتا ہے۔ ایسے مواقع پر جوابی تدبیر صرف مسئلہ کو بڑھاتی ہے۔ وہ فریق ثانی کے اندر ضد اور انتقام کی آگ بھڑکا کر مسئلہ کو شدید تر بنا دیتی ہے۔ وہ کسی حال میں مسئلہ کا حل نہیں۔

صبر کا مطلب عدم عمل نہیں، صبر کا مطلب زیادہ مؤثر عمل ہے۔ صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبر آدمی پیش آمدہ مسئلہ کو جذباتی تدبیر کے ذریعہ حل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صبر والا آدمی حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بے صبری کا طریقہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور صبر کا طریقہ ہمیشہ کامیاب۔

اس معاملہ کی ایک معلوم اور معروف مثال یہ ہے کہ ہر سال ہندو لوگوں کی طرف سے گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔ ابتداءً مسلمان یہ کرتے تھے کہ گن پتی کا جلوس جب ان کی مسجد کے سامنے سے گزرتا تو وہ روک ٹوک کرتے۔ وہ جلوس کی روٹ بدلنے کی مانگ کرتے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا اور خونی فساد کی نوبت آ جاتی۔ اب اللہ کا فضل ہے کہ الرسالہ کی تعمیری مہم کے نتیجہ میں اس معاملہ میں مسلمان صبر و اعراض کی حکمت کو سمجھ گئے ہیں۔ چنانچہ اب بھی ہر سال پہلے کی طرح گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔ جلوس والے اب بھی وہی کرتے ہیں جو وہ پہلے کرتے تھے۔ مگر اب

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page