اسلام میں ٹررزم نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۳۵
کئی سالوں سے گن پتی کے جلوس کے موقع پر فرقہ وارانہ فساد کا ہونا تقریباً بند ہو گیا ہے۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اب مسلمان گن پتی کے جلوس کے موقع پر صبر و اعراض کا فارمولہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ اس سے پہلے وہ بے صبری اور جذباتیت کا طریقہ اختیار کئے ہوئے تھے۔ سوال احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے مسائل میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف ہے۔ مثلاً بعض روایتوں میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے اور بعض دوسری روایتوں میں ناف کے نیچے باندھنے کا۔ اس طرح کے اختلاف کی موجودگی میں صلوا كما رأيتموني اصلی کے حکم پر کس طرح عمل کیا جائے گا۔ (محمد امین گڈو، سری نگر، کشمیر)
جواب
اس طرح کے اختلافات سے معلوم ہوتا ہے کہ آداب نماز میں توسع کا اصول ہے۔ اس لئے تو حد کے اصول پر کوئی ایک نمونہ قائم کرنے کی کوشش درست نہیں۔ امام شافعی نے بجا طور پر کہا ہے کہ رأى صواب يحتمل الخطاء ورأى غيرى خطأ يحتمل الصواب ۔ میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور فریق ثانی کی رائے غلط ہے احتمال صواب کے ساتھ۔ ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں روایتوں کے اختلاف کو ایک ثابت کرنے کی ساری کوشش کے باوجود صرف احتمال ثابت ہوتا ہے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس اختلاف کو توسع پر محمول کیا جائے ۔ اور میرے نزدیک یہی محدثین کا مسلک تھا۔
نماز اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے خشوع کا ایک عمل ہے نہ کہ محض کچھ ظواہر کی صحت ادائیگی کا عمل۔ ایسی حالت میں ظاہری آداب میں فرق ہونا ایک فطری بات ہے۔ نمازی کو چاہئے کہ اپنا سارا دھیان داخلی کیفیت پر دے ، نہ کہ ظاہری ہیئت پر ۔ چنانچہ ظاہری ہیئت کی صحت ادائیگی کے باوجود ایک شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ارجع فصل فإنك لم تصل (جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی)۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues