Al-Risala · December 2001 · page 44

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴

ایک خط

برادر محترم شمشاد محمد خان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کے ٹیلی فون ۱۴ اکتوبر ۲۰۰۱ کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ برمنگھم کے زمانہ قیام میں ۲۲ ستمبر ۲۰۰۱ کو آپ سے جس خواب کا ذکر ہوا تھا، آپ کی ہدایت کے مطابق، اس کو روانہ کر رہا ہوں۔ یہ خواب میں نے تین سال پہلے دہلی میں دیکھا تھا۔ ڈائری سے لے کر یہ خواب لفظ بلفظ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔

”۲۱ ستمبر ۱۹۹۸ کی رات کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے یہ دیکھا کہ ایک بڑا کمرہ ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرش پر لیٹے ہوئے ہیں۔ وہ چت لیٹے ہیں۔ جسم پر سفید کپڑے ہیں۔ بھاری بدن ہے۔ آس پاس بہت سے لوگ ہیں مگر وہ کسی کی طرف مخاطب نہیں ہیں۔ بظاہر گہری فکر میں ہیں۔ جاگ رہے ہیں۔ غالباً آنکھیں بند ہیں۔ میں ان کے بہت قریب بیٹھا ہوا ہوں۔ اتنے میں بغیر کسی تمہید کے رسول اللہ نے بولنا شروع کیا۔ وہ اردو میں بول رہے تھے۔ وہ افغانستان اور افغانیوں کے بارے میں کہہ رہے تھے۔ بہت رک رک کر الفاظ ادا کر رہے تھے۔ میں نے فوراً اس کو لکھنا شروع کیا۔ میں نے دو سطریں لکھی تھیں کہ خیال آیا کہ میرے پاس اچھا کاغذ نہیں ہے۔ میں دوڑ کر اوپر کی منزل پر گیا تا کہ اپنے کمرہ سے دوسرا کاغذ اور قلم لے آؤں۔ مگر کسی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی اور جب میں دوبارہ رسول اللہ کے پاس پہنچا تو آپ بول کر خاموش ہو چکے تھے۔ میں بے چین ہو گیا کہ میں آپ کی پوری بات کو نہ لکھ سکا۔ وہاں جو لوگ تھے میں نے دیکھا کہ کوئی بھی شخص رسول اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہے۔ بلکہ ہر ایک ادھر ادھر مشغول ہے۔ میں نے پریشان ہو کر پوچھا کہ کیا کسی نے رسول اللہ کی بات کو لکھا ہے۔ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جیسے کہ وہ میرے سوال کو غیر اہم سمجھ رہے ہوں۔ کئی بار پوچھنے کے بعد معلوم ہوا کہ ایک شخص نے آپ کی بات لکھی ہے مگر وہ بامعنی

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page