شریعت اور دین کا فرق
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۵
زمانہ میں یروشلم کے باہر مدینہ جیسی کوئی جگہ موجود نہ تھی، جہاں جاکر زیادہ بہتر حالات میں نیا دعوتی مرکز بنایا جاسکے۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ٢٣ سالہ زندگی میں حالات و واقعات کی جو ترتیب ہے وہ تاریخ اسلام کا ایک جزء ہے نہ کہ عقیدہ اسلام کا ایک حصہ۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام نے مکہ میں پر امن دعوت کے انداز میں کام کیا۔ اس کے بعد آپ خاموش طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے ۔ اس کے بعد جہاد (بمعنیٰ قتال) کے واقعات پیش آئے اور آخر کار مکہ فتح ہو گیا۔ اب واقعات کی اس ترتیب کو لے کر اگر کوئی یہ کہے کہ اسلامی تحریک تین مرحلوں کا نام ہے ـــــ دعوت ، ہجرت، جہاد، تو یہ صحیح نہ ہو گا۔ اس لئے کہ یہ ترتیب مقدس عقیدہ پر قائم نہیں ہے۔ اس کی یہ ترتیب تمام تر زمانی حالات نے قائم کی نہ کہ کسی غیر متغير عقیدہ و نظریہ نے۔ اس کا تعلق منہاج سے ہے نہ کہ الدین سے۔ اس کی حیثیت تمام تر اضافی (relative) ہے۔ وہ حالات کی بنا پر بننے والی ایک تاریخ ہے نہ کہ عقیدہ کی بنا پر بننے والی ایک مقدس ترتیب۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، منہاج (method) میں فرق کا معاملہ صرف پچھلے نبیوں کے درمیان فرق کا معاملہ نہ تھا۔ یہ اصول ختم نبوت کے بعد بھی امت مسلمہ میں بدستور جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ منہاج میں فرق کا معاملہ جس اصول پر مبنی ہے وہ ایک ابدی اصول ہے، یعنی خارجی حالات میں فرق کا پیدا ہونا۔ حالات کا یہ فرق ہمیشہ مختلف صورتوں میں پیش آتا رہتا ہے۔ اس لیے منہاج میں فرق کی ضرورت بھی بار بار پیش آتی رہتی ہے۔
مثال کے طور پر قدیم زمانہ میں آمرانہ بادشاہت کا رواج تھا۔ تمام امور ایک جابر حکمراں کے اختیار میں ہوتے تھے اس بنا پر کسی خدا پرست گروہ کے لئے دینی زندگی گزارنا یا تو اس وقت ممکن ہوتا تھا جب کہ وہ حکمراں کے دائرہ اقتدار سے باہر چلا جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues