اسلام میں ٹررزم نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۶
ایک خط
برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۱۱۷ مئی ۲۰۰۱ء کو انگریزی میگزین دی ویک (The Week) کے کرسپانڈنٹ مسٹر کارتیکیا شرما (Kartikeya Sharma) نے انٹرویو لیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کے ہندو اور مسلمان دونوں میں سے اکثر لوگ فنڈا منٹلسٹ ہوگئے ہیں۔ یہ بات اردو اور ہندی اخباروں تک محدود نہیں، انگریزی اخباروں سے جڑے ہوئے لوگ بھی زیادہ تر فنڈا منٹلسٹ ہیں، اگرچہ ان کا فنڈا منٹلزم کسی قدر چھپا ہوا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے مگر جس چیز کو آپ فنڈا منٹلزم کہہ رہے ہیں وہ دراصل نفسیات خوف (fear psychosis) کی پیداوار ہے۔ اس ملک میں ہندو اکثریت میں ہیں اور مسلمان اقلیت میں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اپنے لیڈروں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں دونوں ہی فرقے یکساں طور پر خوف کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ ہندو کا خوف یہ ہے کہ مسلمان اپنی مقدس کتاب قرآن کے حکم کی بنا پر چار چار شادیاں کرتے ہیں اور چوگنا بچے پیدا کرتے ہیں۔ ہندوستان میں ان کو اپنے پرسنل لا ء کی بنا پر اس کی آزادی ہے۔ اب اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو جلد ہی وہ وقت آئے گا جب کہ مسلمان اس ملک میں تعداد کے اعتبار سے زیادہ ہو جائیں گے اور ہندو خود اپنے ہی ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔
مسٹر شرما نے بطور حقیقت میری بات سے اتفاق کیا۔ پھر انہوں نے خود ہی کہا کہ یہ ہندوؤں کا ایک فرضی وہم ہے۔ اس قسم کا معاملہ یہاں ہونے والا ہی نہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے سماج میں ایک سے زیادہ شادی کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ کوئی آدمی اگر ایک سے زیادہ شادی کر لے تو اس کی زندگی سخت مصیبت بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں کون مسلمان چار شادیوں کا بکھیڑا مول لے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues