Al-Risala · December 2001 · page 47

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۷

انہوں نے کہا کہ چار شادی کا فارمولا ہندوستان جیسے سماج میں قابلِ عمل (feasible) ہی نہیں۔ اس طرح خود مسٹر کارٹیکیا شرماہی نے چار شادی پر مبنی ہندوؤں کے خوف کو نا قابلِ عمل بتا کر رد کر دیا۔ اب مسلمانوں کے مسئلے کو لیجئے ۔ مسلمانوں میں بظاہر بہت سی تحریکیں چل رہی ہیں مگر میرے نزدیک سب کی سب نفسیات خوف کی پیداوار ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان مختلف ظاہری اسباب کی بنا پر اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی موجودہ تحریکیں شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی عدم تحفظ کے احساس کا اظہار ہیں۔ اسلام کو پولیٹیکل نظریہ کے طور پر پیش کرنا، جہاد کا نعرہ لگانا، ملت کے تحفظ کے نام پر تحریکیں چلانا، ملک کو دار الحرب قرار دینا، وغیرہ سب اسی نفسیات خوف کا نتیجہ ہیں۔ حتی کہ جو لوگ یہ کہہ کر مسلمانوں کو مطمئن کرتے ہیں کہ چیزوں سے نہیں ہوتا، خدا سے ہوتا ہے‘ وہ بھی اسی نفسیات کے زیر اثر کلام کر رہے ہیں، اگر چہ ان کا کلام اپنی نوعیت کے اعتبار سے مسئلہ کا سلبی حل ہے، نہ کہ ایجابی حل۔

اصل یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان میں جو حالات پیدا ہوئے وہ مسلمانوں کے مفروضات کے بالکل خلاف تھے۔ کچھ مسلمانوں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ آزاد ہندوستان ہندو مسلم اتحاد کا ہندوستان ہوگا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ کچھ مسلمانوں کا یقین تھا کہ سیکولر دستور مسلمانوں کے حقوق کا محافظ بنے گا۔ مگر وہ خیال خام ثابت ہوا۔ کچھ اور مسلمانوں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ ہندوستان کی سرحد پر پاکستان کی صورت میں ایک مسلم اسٹیٹ کا وجود میں آنا مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت ہوگا، مگر ایسا بھی نہیں ہوا۔ کچھ اور لوگ اس تخیل میں مبتلا تھے کہ پولیٹیکل جہاد کے ذریعہ وہ ہندوستان کے امام بن جائیں گے، مگر یہ نظریاتی خواب بھی پورا نہیں ہوا۔ اسی طرح کچھ لوگ اسباب کی نفی کر کے شتر مرغ کے نسخہ کے مطابق، اپنی ایک محفوظ دنیا بنانا چاہتے تھے، مگر وہ بھی صرف سراب ثابت ہوا۔

مسلمانوں نے دیکھا کہ ان کے تمام خوشنما مفروضات کے باوجود ملک میں تباہ کن قسم کے فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے ہیں۔ تاریخی بابری مسجد ڈھا دی گئی اور ان کے پر جوش لیڈ راس کو بچانے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ سروسوں میں امتیاز، قانون کے نفاذ میں تعصب، ملک کے سیاسی اور اقتصادی نقشے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page