Al-Risala · December 2001 · page 49

اسلام میں ٹررزم نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۹

ایک خط

برادر محترم جناب عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ناگپور میں آپ لوگوں کے ساتھ میں تین دن تک رہا یعنی ۲۹ جون سے یکم جولائی ۲۰۰۱ تک ۔ یہ میری زندگی کے یادگار لمحات تھے۔ اس قیام کے دوران بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

عزیزم محمد زبیر اکبانی بیک وقت صالح اور ذہین نوجوان ہیں۔ انہوں نے ائرپورٹ پر مجھ سے دو سوال کئے ۔ ایک سوال یہ تھا کہ وزڈم اور وژن میں کیا فرق ہے۔ دوسرے یہ کہ کوئی شخص مین آف وژن (man of vision) کس طرح بنتا ہے۔ حسبِ وعدہ اس خط کے ذریعہ دونوں سوالوں کے بارے میں مختصر عرض کر رہا ہوں ۔

پہلے سوال کے بارے میں عرض ہے کہ وزڈم (wisdom) سے مراد عقل ہے اور وژن (vision) سے مراد بصیرت ہے۔ وزڈم والا آدمی حال سے مکمل واقفیت رکھتا ہے اور وژن والا آدمی وہ ہے جس کے اندر مستقبل بینی کی صلاحیت ہو۔ اس فرق کو سمجھنے کے لئے یہاں میں انگریزی کے دو استعمال نقل کروں گا۔ وزڈم کے بارے میں انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ : (wisdom means) the faculty of making the best use of knowledge, experience, understanding. وژن کے لفظ کا ایک استعمال ویبسٹر ڈکشنری میں اس طرح نقل کیا گیا ہے : vision is the ability to perceive something not actually visible, as through mental acuteness or keen foresight. اب دیکھئے کہ کوئی شخص صاحب بصیرت (man of vision) کس طرح بنتا ہے۔ اس کا بہترین جواب ہم کو ایک حدیثِ رسول میں ملتا ہے :

ما زهد عبدٌ في الدنيا الا أنبت الله الحكمة فى قلبه و أنطق بها لسانه و

‹ Previous page Next page › Contents of December 2001 All issues

Printed page