Al-Risala · January 2001 · page 9

تاریخ کا مطالعہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۹

کرنے کے باوجود وہ اپنی منزلِ مقصود تک نہیں پہنچتی۔ تقریباً پوری انسانی تاریخ اسی قسم کی ناکامی کی ایک مسلسل کہانی ہے۔

انسان کے سوا جو مادی کائنات ہے، اس میں ناکام تجربات کا یہ المیہ مطلق نظر نہیں آتا۔ غیر ذی روح مادی اشیاء کا سفرِ کامل صحت کے ساتھ اربوں سال سے مسلسل جاری ہے۔ قرآن (الملک ۳) کے الفاظ میں اس کے اندر کسی فتور (flaw) کا کوئی وجود نہیں۔ وہ کامل بے نقص انداز میں مسلسل اور دائمی طور پر چلی جا رہی ہے۔

مادی اشیاء کا اس طرح بے نقص ہونا اس لئے ہے کہ اس خطہ کائنات میں انسانی دنیا کی طرح آزادانہ اختیار (free will) کا وجود نہیں۔ یہ حصہ کائنات مکمل طور پر جبر (determinism) کے تحت ہے۔ مادی دنیا اپنے ذاتی ارادہ کے تحت کوئی خود ساختہ کورس اختیار نہیں کرتی جس میں اسے انسان جیسی محدودیت سے دوچار ہونا پڑے۔ مادی دنیا عین وہی عمل کرتی ہے جو قانونِ فطرت کے تحت اسے کرنا چاہئے، اور اس عمل سے ہمیشہ باز رہتی ہے جو اسے نہیں کرنا چاہئے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے مادی دنیا کو، انسانی دنیا کے برعکس، ایک ایسی دنیا بنا دیا ہے جہاں ناکامیوں اور پسپائیوں کی دوطرفہ داستان موجود نہیں۔

اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ انسانی زندگی میں ارادہ اور عمل کے درمیان جو تضاد پایا جاتا ہے اس تضاد کا حل کیا ہے، اسی مسئلہ کے حل کے لئے خالق کائنات نے اپنے پیغمبر مبعوث کئے- ان پیغمبروں کو اللہ نے حقیقت کا کلی علم دیا۔ اور انہیں یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ انسان کو اس کے حدود (limitations) سے آگاہ کر دیں۔ وہ اس کو بتائیں کہ انسان اگرچہ ذاتی ارادہ کے اعتبار سے لا محدود ہے، مگر وہ اپنے ارادہ کی خارجی تعمیل کے اعتبار سے یقینی طور پر محدود ہے۔ پیغمبرانہ مشن کا یہی وہ پہلو ہے جس کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و سلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: وحد حدوداً فلا تعتدوها (الدار قطنی، بحوالہ مشکوۃ المصابیح ۶۹/۱) یعنی اللہ نے تمہارے لئے حدیں (limitations) مقرر کر دی ہیں، تو تم ان حدوں سے تجاوز نہ کرو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page