شریعت اور دین کا فرق
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۶
السلام نے کیا۔ وہ مصر میں فرعونی اقتدار کے تحت اللہ واحد کی عبادت کرتے ہوئے پرامن زندگی نہیں گزار سکتے تھے، اس لیے وہ بنی اسرائیل کے پورے گروہ کو لے کر مصر سے باہر چلے گئے اور صحرائے سینا کے غیر آباد علاقہ میں قیام کیا اور وہاں بنی اسرائیل کے لئے ایک خدا پرستانہ معاشرہ کی تشکیل کی۔
دوسری مثال وہ ہے جو اصحاب رسول کے یہاں ملتی ہے۔ ان کے زمانہ میں عرب سے متصل ایرانی شہنشاہیت (Sasanid Empire) اور رومی شہنشاہیت (Bazantine Empire) موجود تھیں ۔ یہ دونوں شہنشاہیتیں سیاسی جبر کے اصول پر قائم تھیں۔ ان کے تحت یہ ممکن نہ تھا کہ ارباب توحید آزادانہ طور پر اپنے فرائض کو ادا کر سکیں۔ اس لئے خود ان شہنشاہیوں کی جارحیت کے نتیجہ میں ان کے ساتھ اصحاب رسول کا ٹکراؤ پیش آیا۔ اللہ کی خصوصی مدد سے یہ ٹکراؤ کامیاب رہا۔ اس کے نتیجہ میں ان جابرانہ شہنشاہیوں کا خاتمہ ہو گیا اور اہل توحید کو یہ موقعہ ملا کہ وہ خدا کی زمین پر خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
بیسویں صدی میں پہنچ کر دنیا کے حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں۔ نئے تاریخی عمل کے نتیجہ میں اب دنیا میں نہ شخصی حکمرانی ہے اور نہ جابرانہ سیاسی نظام۔ 1991 میں سوویت ایمپائر کا ٹوٹنا انسانی تاریخ میں نظام جبر کے خاتمہ کی آخری تکمیل تھی۔ اب اس قسم کا سیاسی جبر کبھی دنیا میں واپس آنے والا نہیں۔
سیاسی تبدیلی نے ’’منہاج‘‘ کے معاملہ کو انقلابی طور پر بدل دیا ہے۔ آج کے توحید پرستوں کو نہ اس کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف ہجرت کریں اور نہ یہ ضرورت ہے کہ وہ وقت کے حکمرانوں سے مسلح ٹکراؤ کریں، تاکہ انہیں ختم کر کے اپنے لئے آزادانہ دینی زندگی کے مواقع حاصل کر سکیں، کیوں کہ یہ چیزیں تو اب تاریخی عمل کے نتیجہ میں اپنے آپ انہیں حاصل ہو چکی ہیں۔ اس انقلابی تبدیلی کے دو بڑے پہلو ہیں: (۱) مکمل مذہبی آزادی (۲) جدید وسائل۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues