Al-Risala · February 2001 · page 17

شریعت اور دین کا فرق

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۷

موجودہ زمانہ انسانی تاریخ کا پہلا زمانہ ہے جب کہ ایک طرف فکری انقلابات اور دوسری طرف اقوام متحدہ کے قیام کے نتیجہ میں ہر فرد اور ہر گروہ کا یہ ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا ہے کہ وہ مکمل طور پر یہ حق رکھتا ہے کہ جس مذہب کو چاہے مانے، اس پر عمل کرے اور اس کی تبلیغ کرے، صرف اس ایک شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے خلاف تشدد کا کوئی فعل نہ کرے، دوسرے لفظوں میں یہ کہ پرامن مذہبی زندگی یا پرامن دعوت و تبلیغ کے راستہ میں آج کسی بھی قسم کی کوئی خارجی رکاوٹ موجود نہیں۔

قرآن میں اصحاب رسول کو یہ دعاء تلقین کی گئی تھی کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلی امتوں پر ڈالا تھا (البقرہ ۲۸۶) یہ گویا دعا کی صورت میں اس آنے والے دور کا پیشگی اعلان تھا جو پیغمبر آخر الزماں کی امت کے لئے اللہ نے مقدر کیا تھا۔ خاتمہ عصر کا یہ دور اب دنیا میں پوری طرح آچکا ہے۔

ایسی حالت میں آج کے مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ وہ نئے دور آزادی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کا بھر پور استقبال کریں، نہ کہ خود ساختہ نظریات کی بنا پر نئے دور کے سیاسی حکمرانوں سے غیر ضروری ٹکراؤ شروع کر دیں اور پھر صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عمر کے اس پیشگی انتباہ کا مصداق بنیں کہ ۔ ۔۔۔۔۔ اللہ کی توفیق سے اصحاب رسول نے سیاسی فتنہ کا خاتمہ کر دیا تھا، مگر تم لوگوں نے اپنی نادان کارروائیوں کے ذریعہ سیاسی فتنہ کو دوبارہ اپنے خلاف زندہ کر لیا (صحیح البخاری ۸/ ۳۲)

اس سلسلہ میں دوسری اہم چیز جدید وسائل کا ظہور ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد ایسے نئے وسائل کار ظہور میں آئے ہیں جو اپنی تاثیر کے لحاظ سے اتنا زیادہ دور رس ہیں کہ اب سیاسی اقتدار عملاً ثانوی درجہ کی چیز بن گیا ہے۔ آج وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا ہے جس کی امید قدیم زمانہ میں صرف سیاسی اقتدار کے ذریعہ کی جاسکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان وسائل کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو آج کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page