Al-Risala · February 2001 · page 19

شریعت اور تطبیق شریعت

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۹

شریعت اور تطبیق شریعت

انٹرنیٹ پر راقم الحروف کے کچھ دعوتی مضامین کو دیکھنے کے بعد اس کے ایک قاری نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنا ایک ای میل بھیجا۔ اس میں انہوں نے ڈرامائی انداز میں میرے نقطۂ نظر کی تردید کی تھی۔ انہوں نے چند مثالیں دیتے ہوئے ظاہر کیا تھا کہ راقم الحروف کا نقطۂ نظر قرآن کے نقطۂ نظر کی عین ضد ہے۔ انھوں نے لکھا تھا:

Maulana Wahiduddin says: Muslims should keep patience against atrocities committed for other nations and engage themselves in dawah work. But in sharp contrast to it God Almighty says:

And fight them on until there is no more fitnah, and religion becomes Allah's in entirety. (8:39)

پھر ہم کس کی بات مانیں ۔ مولانا وحید الدین کی یا اللہ کی۔

بظاہر یہ بات بڑی سنسنی خیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقتاً وہ اتنی ہی زیادہ بے حقیقت ہے۔ اس غلطی کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر قرآن ایک مکمل مجموعہ کی شکل میں مکہ میں موجود ہوتا جیسا کہ آج وہ مذکورہ مکتوب نگار کے پاس برائے حوالہ موجود ہے تو عین ممکن ہے کہ ٹھیک یہی واقعہ قدیم مکہ میں پیش آتا جس کا ایک نمونہ انٹرنیٹ کے مذکورہ مکتوب میں نظر آتا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکی دور میں جب وہاں کے مشرکین نے مسلمانوں کے اوپر سخت مظالم شروع کئے تو کچھ مسلمان اس سے متاثر ہو کر یہ کہتے کہ ہمیں ان مشرکین سے جنگ کی اجازت دیجئے اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ فرماتے کہ تم لوگ صبر کرو کیوں کہ مجھے صرف دعوت و تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے، مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیا گیا۔ اب اگر موجودہ مجلد قرآن کی طرح اس وقت مکمل قرآن موجود ہوتا تو شاید ایک شخص کھڑا ہو کر کہتا کہ ” دیکھو، محمدؐ ہم سے صبر کرنے کے لئے کہتے ہیں، حالانکہ قرآن میں اللہ یہ کہتا ہے کہ ان سے جنگ کرو۔ “

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page