Al-Risala · February 2001 · page 20

شریعت اور تطبیق شریعت

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۰

مگر قدیم مکہ میں ایسا حادثہ پیش نہیں آیا، اور اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ قدیم مکہ میں کسی کے پاس آج جیسا مکمل قرآن موجود ہی نہ تھا۔

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ قسم کا اعتراض کرتے ہیں ان کی اصل غلطی کیا ہے۔ ان کی اصل غلطی وہ ہے جس کو وضع الشی فی غیر موضعه کہا جاتا ہے۔ وہ قرآن کی آیت کو غلط مقام پر استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ مسلمان دعوت کے مرحلہ میں ہیں اور انہیں صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کرنا ہے، وہ ان آیتوں کو پیش کر رہے ہیں جو دفاع کے مرحلہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے اتاری گئیں۔ ایسے لوگ غلط انطباق (wrong application) کے مرتکب ہیں۔ وہ مکی حالات میں مدنی حالات والی آیتوں کے حوالے دے رہے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم مکہ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو وہ سارے مسائل اور مصائب پیش آ رہے تھے جن کا ذکر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے حوالہ سے کیا جاتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام نے ان مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ صبر کی روش اختیار کرو اور ٹکراؤ سے اعراض کرتے ہوئے دعوت کا کام جاری رکھو۔ پھر مکہ میں ایسا کیوں نہیں ہوا کہ مذکورہ مسلم مجاہد جیسا کوئی شخص کھڑا ہو کر یہ کہتا کہ دیکھو محمد ہم سے صبر کرنے کے لئے کہتے ہیں، حالانکہ قرآن میں اللہ صاف طور پر حکم دے رہا ہے کہ ان کافروں سے جنگ کرو۔ قدیم مکہ میں ایسا حادثہ پیش نہ آنے کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ اس وقت وہاں موجودہ قسم کا مکمل قرآن مجلد صورت میں موجود ہی نہ تھا جو آج مذکورہ مسلم مجاہد کے ہاتھ میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن اس طرح بیک وقت ایک مجلد کتاب کی صورت میں نہیں اترا جس طرح آج وہ ہمارے پاس موجود ہے۔ بلکہ قرآن مختلف اوقات میں جزء جزء کی صورت میں ۲۳ سال میں اتارا گیا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ حالات کی نسبت سے جس وقت جو حکم مطلوب ہوتا اس وقت وہ حکم قرآن میں اتار دیا جاتا۔ مثال کے طور پر ابتدائی مرحلہ میں صبر کرتے ہوئے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page