Al-Risala · February 2001 · page 21

شریعت اور تطبیق شریعت

الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۱

دعوت کا حکم (المدرس ۲۷) دیا گیا۔ اس کے بعد جب حالات کا تقاضا ہوا تو ہجرت کا حکم نازل ہوا (النحل ۴۱)۔ اس کے بعد جب حالات میں مزید تبدیلی ہوئی تو انہیں قتال کا حکم دیا گیا (البقره ۱۹۰) اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں جب قرآن اتر رہا تھا تو ترتیب نزول اور ترتیب واقعات دونوں میں یکسانیت تھی۔ اس بنا پر حکم اترتے ہی لوگوں کو فوراً معلوم ہو جاتا تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ مگر بعد کو یہ ہوا کہ ۲۳ سال کے دوران مختلف اوقات میں اتری ہوئی آیتیں ایک واحد کتابی مجموعہ کی صورت میں لوگوں کو دے دی گئیں۔ بعد کی نسلوں کے سامنے یہی مجلد کتاب ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ حالات خود قانونِ فطرت کے مطابق ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں۔ جب کہ قرآن کی صورت میں ہمارے پاس جو خدائی گائیڈ بک ہے اس میں ہر قسم کے حالات کے لئے مختلف احکام بیک وقت ایک ہی مجلد کتاب میں اکھٹا ہیں۔ پھر بعد کے زمانے کے مسلمان اپنے معاملات میں اس مجموعہ قرآن سے کس طرح رہنمائی حاصل کریں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنی آیات کا مطالعہ ان کے اسباب نزول کی روشنی میں کیا جائے_ یعنی کسی وقت میں اپنی موجود حالت (given situation) کا بے لاگ تعین کیا جائے۔ اور دوسری طرف یہ معلوم کیا جائے کہ اس سے مشابہ حالت (similar situation) جب دور اول میں پیش آئی تو اس وقت وہاں کون سی آیت نازل کی گئی۔ اور جب قرآن میں وہ آیت یا حکم مل جائے تو اس کو اپنے اوپر منطبق کیا جائے۔ گویا کہ جو مقصد دور اول میں مجرد نزول آیت کے ذریعہ حاصل ہوتا تھا وہ اب دونوں زمانوں کے حالات میں مشابہت (similarity) کے ذریعہ حاصل کیا جائے گا۔

سہولت فہم کی خاطر یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کا زمانہ نبوت وسیع تر نقشہ کے اعتبار سے، چار دوروں میں تقسیم ہے__ (۱) مکی دور کا نصف اول (۲) مکی دور کا نصف ثانی (۳) مدنی دور کا نصف اول (۴) مدنی دور کا نصف ثانی۔ یہ چار دور جو پیغمبر اسلام کے زمانے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues

Printed page