شریعت اور تطبیق شریعت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۲
میں پیش آئے وہ چار فطری دور تھے۔ بنیادی طور پر یہی چار دور ہمیشہ انسانی تاریخ میں ظاہری فرق کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں۔ قرآن اور حقیقی حالات دونوں کا مطالعہ کرکے نہایت آسانی سے اس مشابہت (similarity) کو دریافت کیا جاسکتا ہے جو بعد کے زمانوں میں قرآن سے رہنمائی لینے کے لئے درکار ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن آج جس طرح ہمارے پاس ایک کامل مجموعہ کی صورت میں ہے اس طرح وہ ابتدائی دور کے مسلمانوں کے پاس موجود نہ تھا بلکہ اس وقت وہ جزوِ جزء کی صورت میں تھا۔ اس زمانہ میں قرآن کا کوئی ایک حصہ حسب موقع نازل ہوتا تھا، یعنی واقعی صورت حال کے لحاظ سے جو حکم مطلوب ہو تا، وہی حصہ قرآن اس وقت کے اہل ایمان کو دے دیا جاتا تھا۔ اس بنا پر قرآن کا متعلقہ حصہ اترتے ہی اہل ایمان کو معلوم ہو جاتا تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے اور وہ فوراً اس مطلوب کام میں لگ جاتے۔
مثال کے طور پر جس وقت حالات کا تقاضہ یہ تھا کہ ساری توجہ دعوت و تبلیغ کے کام پر لگائی جائے، اس وقت یہ آیت اتری کہ ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة (النحل (۱۲۵) چنانچہ اس وقت کے پیروان رسول نے دعوت کو واحد نکاتی فارمولا (single point formula) کے طور پر اختیار کر لیا اور اس کام میں پوری طرح مشغول ہوگئے۔ اسی طرح جب صبر و تحمل کا موقع تھا تو یہ آیت اتری فاصبر كما صبر اولوا العزم من الرسل (الاحقاف (۳۵) اس کے بعد اس وقت کے اہل ایمان نے پوری ذہنی یکسوئی کے ساتھ صبر کی روش کو اختیار کر لیا۔ اسی طرح جب فریق ثانی کی جارحیت کے نتیجہ میں دفاع کا مسئلہ سامنے آیا تو قرآن میں یہ آیت اتری: قاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم (البقرة ۱۹۰) اس حکم کو پانے کے بعد اہل ایمان جنگ کے میدان میں سرگرم ہو گئے، وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کے ۲۳ سالہ دور نبوت میں ایسا ہی ہوتا رہا۔ ہر بار قرآن کا وہی حصہ اترتا تھا جو موقع کے لحاظ سے بروقت مطلوب ہوتا تھا۔ اس لئے اس وقت کے اہل ایمان کے لئے اس
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues