شریعت اور تطبیق شریعت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۱، صفحہ ۲۳
معاملہ میں صرف واحد معلوم حکم کی پیروی کا مسئلہ تھا نہ کہ فیصلہ کرنے کا کہ مختلف اور متعدد احکام میں سے کون سا حکم بروقت ان سے مطلوب ہے اور کون سا حکم مطلوب نہیں۔ لیکن بعد کے زمانہ میں صورت حال بدل گئی۔ اب ایسا ہوا کہ مختلف اوقات میں اترے ہوئے قرآن کے حصے ایک کتابی مجموعہ کی صورت میں مجلد کر دیئے گئے۔ گویا حکم اور حکم کا پس منظر (بیک گراؤنڈ) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری خود مسلمانوں کی ہو گئی کہ وہ گہرے مطالعہ اور تدبر کے ذریعہ یہ جانیں کہ قرآن کا کون سا حکم کس معین وقت (given situation) میں ان پر قابل انطباق (applicable) ہے۔ اور اس طرح مطلوب قرآنی آیت کو دریافت کر کے اس پر یکسوئی کے ساتھ عمل شروع کر دیں۔ مزید غور و فکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ابتدائی دور کے اہل ایمان کی اصل ذمہ داری وہ تھی جس کو قرآن میں استماع (الاعراف ۲۰۲) کہا گیا ہے۔ یعنی قرآن کا جو حصہ اتارا جائے اس کو پوری توجہ کے ساتھ سننا اور اس کی پیروی میں مصروف ہو جانا۔ اس کے مقابلہ میں بعد کے مسلمانوں کی مزید ذمہ داری وہ قرار پائی جس کو قرآن میں استنباط (الننساء ۸۳) کہا گیا ہے۔ یعنی دیانت اور تقویٰ کے ساتھ غور و فکر کر کے خود یہ معلوم کرنا کہ وہ بروقت جس صورت حال میں ہیں اس کی نسبت سے وہ کس حکم الہی کے مخاطب ہیں ، اور پھر اس پر یکسوئی کے ساتھ عمل شروع کر دینا۔
گویا کہ پہلے یہ تھا کہ دعوت کے وقت دعوت کا حکم اترتا تھا۔ صبر کے وقت صبر کا حکم اور جنگ کے وقت جنگ کا حکم نازل ہوتا تھا۔ اس بنا پر لوگوں کو حکم اور اس کا انطباق سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا تھا۔ بعد کے مسلمانوں کے لئے یہ ہوا کہ ایک ہی وقت میں دعوت اور صبر اور جنگ سب کا حکم انہیں ایک ساتھ دے دیا گیا۔ اب یہ خود مسلمانوں کی اپنی ذمہ داری قرار پائی کہ وہ بطور خود یہ معلوم کریں کہ ان مختلف احکام میں سے کون سا حکم بروقت ان سے متعلق ہے۔ گویا کہ پہلے صورت حال بھی ایک تھی اور حکم بھی ایک۔ اور اب اس کے برعکس یہ ہو گیا کہ احکام مختلف
‹ Previous page Next page › Contents of February 2001 All issues